0

وزیرستان میں معیاری تعلیم کی جانب ایک بہترین قدم

تحصیل غلام خان گاؤں سرگلی بنگیدار میں بدامنی کی بناء 6 سال تک بند اسکول 6 ماہ قبل فعال ہو گئے—فوٹو: رپورٹ
تحصیل غلام خان گاؤں سرگلی بنگیدار میں بدامنی کی بناء 6 سال تک بند اسکول 6 ماہ قبل فعال ہو گئے—فوٹو: رپورٹ

شمالی وزیرستان میں پاک افغان بارڈ کے قریب واقع قائداعظم پرائمری پبلک اسکول کے طلباء اور طالبات اُردو اور انگریزی میں تقاریر کرنے کے قابل بن سکتے ہیں۔

تحصیل غلام خان گاؤں سرگلی بنگیدار میں بدامنی کی بناء پر 6 سال تک بند اسکول 6 ماہ قبل فعال۔

سرکاری حکام کے مطابق میجر جنرل محمد نعیم اختر دور دراز علاقے کے قابلیت کے بعد بچوں کو مدِنظر رکھتے ہوئے اس کو اسکول فعال بنایا۔

اسکول میں پاک آرمی کی طرف سے 3 گریجوٹ کی طرف سے بچوں کو پڑھانے کا سلسلہ شروع

قائداعظم پرائمری اسکول میں منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے محمد نعیم نے کہا کہ گاوں کی یقین، اختیار علیم کی افادیت پر دیے جانے والے لیکچرز اور ایک کے بعد دوسرے جرگوں کی بدولت میں والدین سے بچوں کو بنیادوں پر خاص طور پر بچیاں۔ اسکول بھیجنے والے طالب علموں نے وعدہ کیا، آج اسکول کی تعداد 80 تک پہنچ گئی، اسکول میں زیر تعلیم بچوں میں 46 فیصد بچے بھی پڑھیں۔

ہونہار طالب علم و طالبات اردو اور انگریزی زبان میں زریعے داد وصول کرتے ہیں—فوٹو: اسکرین گریب
ہونہار طالب علم و طالبات اردو اور انگریزی زبان میں زریعے داد وصول کرتے ہیں—فوٹو: اسکرین گریب

تقریب کے دوران بچوں نے اُردو اور انگریزی زبان میں تقرر اور گفتگو کرنے کے موقع پر حیران، ہونہار طالب علم و طالبات اُردو اور انگریزی زبان میں تقار کے ذریعے داد وصول کرتے ہیں۔

قائد اعظم پرائمری پبلک اسکول کا کہنا ہے کہ وہ بچے کی تعلیم پر خاص توجہ دیں۔

اعلیٰ تعلیمی معیار کو بھی ان بچوں کے ساتھ رکھنے کے لیے خیبر پختونخوا حکومت کے نظام کے مطابق کتابیں، کمپیوٹر، یونیفارم،کھیل کا کام کیا جاتا ہے۔

اس کے علاوہ اسکول میں پرچوں کا بھی کیا جاتا ہے جبکہ بچوں کے والدین کے لیے پیرنٹس ٹیچر میٹنگ کا اجراء کیاجاتا ہے۔

بچوں کے لیے فراغت کے دن اسکول میں خصوصی آرٹس کلاس کا انتظام کیا جاتا ہے۔— فوٹو: رپورٹ
بچوں کے لیے فراغت کے دن اسکول میں خصوصی آرٹس کلاس کا انتظام کیا جاتا ہے۔— فوٹو: رپورٹ

قائد اعظم کے اسکول کے مواقع کے لیے میسر ہیں جبکہ بچوں کو بھی شدت پسندی جیسے ناسور پر ماحول رکھنے کے لیے فراغت کے لیے اسکول میں خصوصی آرٹس کلاس کا انتظام کیا جاتا ہے۔

عمائدین علاقہ اور بچوں کے والدین کا کہنا ہے کہ اگر اسی طرح اس علاقے میں دیگر غیر فعال تعلیمی اداروں کو بھی فعال کیا جائے تو یہاں صرف خواہندگی کی شرح میں اضافہ نہ کیا جائے بلکہ بچے کی شدید مذمت سے بھی ملک اور قوم کا نام روشن ہو اور مستقبل روشن ہو۔ نظر آنا

تقریب کے موقع پر جی اور سی نعیم اختر نے طلبا کی قابلیت کو سراہتے ہوئے انعامات کی صورت میں داد کہا۔

آپ کے حکام کے مطابق شمالی وزیرستان میں ایک ہزار کے قریب مقامی تعلیمی ادارے موجود ہیں تاہم ان میں بیسٹ ٹائمری اور میڈل پر اسکولی گرلز اسکول غیر فعال ہیں جن کی بحالی کی کوششیں جاری ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

Leave a Reply