0

فائز عیسیٰ کی سربراہی میں آڈیو لیکس جوڈیشل کمیشن پر عمران خان کا ردعمل

انکوائری کمیشن کو اس انویسٹی گیشن کا اختیار ہونا چاہیے کہ سرکردہ عوامی رضاکاروں کے تعاون کے لیے ٹیلی فون کو کون لوگ عناصر کو ریکارڈ کرتے ہیں؟  عمران— فوٹو: فائل
انکوائری کمیشن کو اس انویسٹی گیشن کا اختیار ہونا چاہیے کہ سرکردہ عوامی رضاکاروں کے تعاون کے لیے ٹیلی فون کو کون لوگ عناصر کو ریکارڈ کرتے ہیں؟ عمران— فوٹو: فائل

کمزور حکومت کی طرف سے عدلیہ کے بیانات ہونے سے آڈیو لیکس کے قیام پر جج جسٹس قاضی فائزٰی کی سربراہی میں جوڈیشل کمیشن پر خان کا ردعمل سامنے آیا۔

اپنی ٹوئٹ میں عمران خان نے کہا کہ آڈیو لیکس انکوائری کمیشن کے ضوابط میں کئی طرح کے دانستہ چھوڑی، انکوائری کمیشن میں یہ نقطہ نظر نہیں رکھا گیا کہ ایوان کی غیر آئینی جاسوسی میں کون ملوث ہے؟ انکوائری کمیشن میں یہ نہیں کہا گیا کہ حاضر سروس جج صاحبان کی غیرآئینی جاسوسی میں کون ملوث ہے؟

عمران خان نے کہا کہ انکوائری کمیشن کو اس انویسٹی گیشن کا اختیار ہونا چاہیے کہ عوامی مفادات کے تحفظات کو مزید ریکارڈ کرنے والے ٹیلی فون کون چھوٹے عناصر کو ریکارڈ کرتے ہیں؟

سابق وزیر اعظم نے کہا کہ سرکردہ عوامی تحفظات کے ماننے والوں کے لیے ٹیلی فون ریکارڈ کرنا آئین کے آرٹیکل 14 کے تحت حاصل پرائیویسی کی سنگین خلاف ورزی، فون ٹیمپرنگ، فون ٹیپنگ سے غیر قانونی ڈیٹا لکھنے کے لیے بھی جوابدہ دار ٹایا۔

عمران خان کا بھی کہنا تھا کہ یہ قانون کی عمل داری والی ریاستوں میں زندگی گزارنے والوں کے بعض حصوں میں گھسنا نہیں چاہیے، وہ کون ہیں جو قانون بالا سے بالاتر اور کم سے کم باہر ہیں؟ وہ کون لوگ ہیں استثنیٰ حاصل کرتے ہیں اور وہ غیر قانونی طور پر جاسوسی کر رہے ہیں، آڈیو انکوائر کمیشن کو کسی عناصر کی شناختی شناختی

خیال رہے کہ کمیشن کے سربراہ نائب قاضی فائز عیسیٰ میں ہوں گا جب کہ بلوچستان کے عوامی انتخابی بازار، مولانا اختر نعیم افغان اسلام آباد کے منظرنامے کے منظر نامے، فاروق عامر فاروق بھی کمیشن کے رکن منتخب ہوں گے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

Leave a Reply