0

عالمی مالیاتی نظام بوسیدہ ہو چکا، اصلاحات کی اشد ضرورت ہے، انتونیو گوتریس

نیویارک: اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 78ویں اجلاس سے خطاب میں سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے کہا کہ عالمی مالیاتی نظام بوسیدہ ہو چکا ہے اور اب اصلاحات کی اشد ضرورت ہے۔

انتونیو گوتریس اپنے خطاب میں کہا کہ اقوام متحدہ کے منشور پر عمل سے ہی پائیدار امن ممکن ہے، عالمی امن کیلیے طاقت کے توازن کو درست کرنا ہوگا، ہمیں عالمی امن کو درپیش چیلنجز کا کثیرالجہتی حل تلاش کرنا ہوگا، ہمیں ماضی کی بری جنگوں اور غلطیوں سے سبق سیکھنا ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ دنیا کو روس یوکرین جنگ کی وجہ سے خوراک کی کمی کا سامنا ہے، دنیا کو یوکرینی گندم اور خوراک کی اشد ضرورت ہے۔

سیکریٹری جنرل نے کہا کہ افغانستان میں خواتین کے حقوق کو بہتر کرنے کی ضرورت ہے، افغان عوام طویل عرصے سے خانہ جنگی کا شکار رہے ہیں، ان کو عالمی مدد کی ضرورت ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں رہائش پذیر عوام امن چاہتے ہیں، فلسطین اسرائیل تنازع کا حل دو ملکی حل کے ذریعے ہی ممکن ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہمیں مشترکہ ترقی کیلیے پائیدار ترقیاتی اہداف کے حصول پر توجہ مرکوز کرنا ہوگی، غریب اور ترقی پذیر ملکوں کو مالی امداد کی اشد ضرورت ہے، موسمیاتی تبدیلی کی وجہ سے دنیا بھر میں لوگوں کی زندگیاں تبدیل ہو رہی ہیں، موسمیاتی تبدیلیاں دنیا کیلیے بڑا چیلنج بن کر سامنے آئی ہیں۔

انتونیو گوتریس نے کہا کہ موسمیاتی تبدیلی کے اثرات دنیا بھر میں تباہ کن اثرات کی صورت میں آ رہے ہیں، عالمی حدت کے ہمارے ماحول پر تباہ کن اثرات مرتب ہو رہے ہیں، ہمیں گرین ہاؤس گیسز کے اخراج کو کم کرنا ہوگا، عالمی حدت میں کمی کیلیے جی 20 ملکوں کو پہل کرنا ہوگی، ہم طویل عرصے تک زیرِ زمین توانائی کے ذرائع پر انحصار نہیں کر سکتے۔

انہوں نے کہا کہ افریقی خطے کا بڑا حصہ اکیسویں صدی میں بھی بجلی سے محروم ہے، ہمیں عالمی گرین فنڈ کے قیام کیلیے اقدامات تیز کرنا ہوں گے، دنیا بھر میں اب بھی ایک ارب 20 کروڑ افراد غربت کی دلدل میں پھنسے ہوئے ہیں، مصنوعی ذہانت کیلیے عالمی سطح پر قواعد و ضوابط وضع کرنے کی ضرورت ہے۔

Comments

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

Leave a Reply