0

پشاور ہائیکورٹ کا تھری ایم پی او کے تحت گرفتار افراد کو رہا کرنے کا حکم

پشاور پاکستان میں ایم پی اور کے تحت نظربندی کی درخواستوں پر چوہدری صاحبزادہ اشتیاق ابراہیم اور ناظرہ اسد اللہ پر مشتمل 2 رکنی بینچ کی — فوٹو: فائل
پشاور پاکستان میں ایم پی اور کے تحت نظربندی کی درخواستوں پر چوہدری صاحبزادہ اشتیاق ابراہیم اور ناظرہ اسد اللہ پر مشتمل 2 رکنی بینچ کی — فوٹو: فائل

پشاور آپ نے کہا کہ ایم پی اور گرفتار افراد کو گرفتار کرنے کا حکم دے دیا، طالبان نے 150 سے زائد درخواستیں طلب کرنے کی منظوری دی۔

پشاور پیپلز میں ایم پی اور کے تحت نگرانی کی درخواستوں پر مصنف صاحبزادہ اشتیاق ابراہیم اور ناظرہ اسد اللہ پر مشتمل 2 رکنی بینچ نے۔

عدالت کو وکیل درخواست گزار شاہ فیصل نے بتایا کہ 9 مئی کو عمران خان کی گرفتاری کے بعد ناخوشگوار واقعہ پیش آیا اور 10 مئی کو جب عدالت نے ان کی گرفتاری کو قرار دیا تو اس کے بعد کوئی ناخوشگوار واقعہ پیش نہیں آیا۔

وکلا نے بتایا کہ 10 مئی کو آرٹیکل 245 لوکل پولیس کو طلب کیا گیا اور 3 ایم پی اور ان کے تحت گرفتاری عمل میں لائی علامت کے تحت 9 اور 13 سال کے بچوں کو بھی گرفتار کیا گیا۔

اس پر باپ اشتیاق نے استفسار کیا کہ 9 سال کو گرفتار کیا گیا؟ اور یہ آپ کے بچے اب بھی زیر ذیل ہیں ؟

وکیل درخواست گزار نے کہا کہ بچے ابھی تک نیچے۔ براہ راست اشتاق نے پوچھا کہ جو گرفتار کر رہے ہیں سب کے خلاف ایف آئی آر درج ہوئی؟ جس وکیل کی درخواست پر درخواست گزار نے بتایا کہ جن کے خلاف ایف آئی آر درج ہوئی ان میں کچھ کو ضمانتیں ملیں اور بعض کی ضمانت منسوخ ہو گئی۔

فاضل جج نے محفوظ فیصلہ سناتے ہوئے 3 ایم پی اور ان کے تحت افراد کو گرفتار کرنے کا حکم دیا۔ عدالت نے ان تمام افراد کو ڈپٹی کمشنر کے پاس پرامن لوگوں کے لیے مچلکے جمع کرنے کا حکم دیا 150 سے زیادہ درخواستیں منظور کیں اور عوام سے جواب طلب کرتے ہوئے 30 مئی تک ملتوی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

Leave a Reply