0

گرمی میں دماغ سے دماغ اور صحت پر کیا اثرات مرتب ہوتے ہیں؟

ہر سال کے درجہ حرارت میں تبدیلی ہو رہی ہے / فائل فوٹو
ہر سال کے درجہ حرارت میں تبدیلی ہو رہی ہے / فائل فوٹو

درجہ حرارت میں اضافہ ہوتا ہے تو جسم پر اس کے مختلف اثرات مرتب ہوتے ہیں جیسے پسینہ خارج ہونے لگتا ہے، تھکاوٹ یا نقاہت کا احساس ہوتا ہے اور پیاس بہت زیادہ محسوس ہوتا ہے۔

لیکن زیادہ درجہ حرارت اور ہیٹ ویو سے دماغ پر کیا اثرات مرتب ہوتے ہیں؟ اس سے ماضی میں کچھ زیادہ کام نہیں آتا۔

لیکن ایک تازہ تحقیق میں آپ کے ساتھ کیا گیا کہ معمول کے درجہ حرارت میں ایک درجہ سینٹی گریڈ سے بھی ڈپریشن اور ان سے متاثر ہونے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔

امریکہ کی جارجیا یونیورسٹی کی تحقیق میں بتایا گیا کہ موسمیاتی عناصر اور صحت پر مرتب ہونے والے منفی اثرات کے درمیان تعلق موجود ہے۔

درحقیقت شواہد سے تو عندیہ ہے کہ موسمیاتی تبدیلیوں کی شدت سے دماغ بری طرح متاثر ہو سکتا ہے۔

2018 میں جرنل نیچر کلائمٹ چینج میں شائع ایک تحقیق میں نے بتایا کہ امریکہ اور میکسیکو میں درجہ حرارت میں ایک سینٹی تھی کہ خودکشیوں کی شرح میں بھی ایک فیصد اضافہ ہوا ہے۔

کیلیفورنیا یونیورسٹی کے موسمیاتی ماہر اور ایسوسی ایٹ ایٹ پروفیسر روبن کوپر نے بتایا کہ موسمیاتی تبدیلیوں میں ہر سال بہت زیادہ گرمی پڑتی ہے جس سے لوگوں کے استحکام کو لاحق ہو گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہمیں موسمیاتی تبدیلیوں کو صحت کے لیے ایک بحران کے طور پر حل کرنا

انسانوں نے درجہ حرارت میں منفی اثرات سے متاثر ہونے والے، سماجی اور حیاتیاتی عناصر میں منفی تبدیلیاں کیں۔

ان کا کہنا تھا کہ دماغی ہارمونز سے متاثر ہونے اور نیورو ٹرانسمیٹرز کے اثرات بہت اہم ہیں۔

موسمیاتی تبدیلی، ہیٹ ویوز اور صحت پر تحقیق کرنے والے براؤن یونیورسٹی کے مہاراشٹر جوش ورٹیزل نے بتایا کہ موسم گرما کے آغاز پر خودکشیوں اور دیگر جسمانی امراض کی شرح میں اضافہ دیکھنے میں آتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ یہ ضروری نہیں ہے کہ سال گرم ترین کو خودکشیوں سے منسلک کیا جائے، لیکن جب درجہ حرارت میں ڈرامائی تبدیلی آتی ہے، یعنی پارہہ امریکہ کے اوپر درجہ حرارت زیادہ ہوتا ہے۔

پروفیسر روبن کوپر کے مطابق اگر ہیٹ ویو کے دوران نیند کا معیار متاثر ہوتا ہے تو اس وقت توجہ دلانے کے ساتھ مرنے میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور لوگ چڑہڑے ہوتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ نیند کی کمی کو پہلے ہی صحت کے لیے نقصان دہ تصور کیا جاتا ہے اور گرمی کے دوران ناقص نشان ہی کے طور پر دماغی صحت کو نقصان پہنچایا جاتا ہے۔

درجہ حرارت میں ایک دماغی کیروونین سے بھی منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں۔

جوش ورٹیزل نے بتایا کہ یہ کیمیکل جِلد کے درجہ حرارت کے بارے میں بتاتا ہے کہ دماغ کو اس کا مشاہدہ تک کیا جاتا ہے اور جیسے ہی آپ کو جواب دیا جاتا ہے۔

اس دماغی جذبات کے اثرات متاثر ہوئے۔

اسی طرح مختلف دماغی امراض کے شکار افراد کو بھی بیماری کی شدت میں اضافہ ہو سکتا ہے۔

تصورات کے موسمیاتی اب عوامی صحت کے اثرات مرتب کر رہے ہیں لیکن اب تک اس کے بارے میں کام نہیں ہوا کہ درجہ حرارت میں تبدیلی سے صحت پر کیا اثرات مرتب ہوتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ بہترین برسوں میں درجہ حرارت میں درجہ حرارت میں ریکارڈ اور لاٹ ویوز سے لاٹ ویوز حق کو پسند کرنے والے کو مدنظر رکھتے ہوئے تحقیق کی جانی چاہیے تاکہ لوگ خود کو وقت کے لیے تیار ہوں۔

نوٹ: یہ مضمون طبی جریدوں میں شائع کی گئی تفصیلات پر، قارین اسباق سے اپنے معالج سے بھی ضروری ہے۔

کیٹاگری میں : صحت

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

Leave a Reply