0

کویت کا غیر ملکیوں کے اقامہ ٹرانسفر سے متعلق نیا فیصلہ

کویت کی وزارت داخلہ نے سرکاری شعبے میں کام کرنے والے تارکین وطن کے رہائشی اجازت ناموں کو آرٹیکل 18 کے تحت پرائیویٹ سیکٹر میں منتقل کرنے سے روکنے کا حکم جاری کردیا۔

غیر ملکی ذرائع ابلاغ کا اس حوالے سے کہنا ہے کہ اقامہ ٹرانسفر روکنے کے فیصلے کا اطلاق ان لوگوں پر ہوگا جن کی سروس قانونی عمر کو پہنچنے پر ختم ہوگئیں یا ان لوگوں پر جنہوں نے اپنی ملازمت سے استعفیٰ دے دیا ہے۔

انہوں نے انکشاف کیا کہ اس کا مقصد ان وزارتوں میں غیر ملکیوں کی تعداد کو کم کر کے ان کی جگہ کویتی شہریوں سے تبدیل کرنا ہے۔

ریاستی وزارتوں میں غیر ملکیوں کو کویتی شہریوں سے تبدیل کرنے کا رجحان ہے جس کی وجہ سے ملازمت کے معاہدوں کی تجدید ان لوگوں کے لیے نہیں کی جاتی جو کام کے لیے قانونی عمر کو پہنچ چکے ہیں یا جن کی عمر 60سال ہوچکی ہو۔

واضح رہے کہ رواں سال کے دوران ملک بدر کیے جانے والے تارکین وطن کی تعداد 40,000 سے تجاوز کرچکی ہے، جن میں اقامتی قانون کی خلاف ورزی کرنے والے، معمولی کارکنان، عوامی اخلاقیات کی خلاف ورزی کرنے والے، اور عدالتی احکام کے پابند افراد شامل ہیں۔

دوسری جانب کویت کی پبلک اتھارٹی برائے افرادی قوت کے ذرائع کا کہنا ہے کہ ملک میں غیر قانونی طور پر مقیم غیر ملکی تارکین وطن کی سب سے بڑی تعداد اس سال اگست، ستمبر اور اکتوبر میں بالترتیب 1,175 اور 996 اور 836 افراد حراست میں لئے گئے۔

غیر ملکی ذرائع ابلاغ کے مطابق چار رکنی مشترکہ کمیٹی کی سربراہی پبلک اتھارٹی برائے افرادی قوت کی جانب سے کی جارہی ہے، جبکہ اس میں وزارت داخلہ، وزارت تجارت و صنعت اور کویت میونسپلٹی کے ارکان شامل ہیں۔

اطلاعات کے مطابق رواں برس کے آغاز سے لے کر گزشتہ اکتوبر تک 5,504 افراد کو حراست میں لیا گیا، جن میں اقامہ اور لیبر قوانین کی خلاف ورزی کرنے والے ملازمین شامل تھے، ان گرفتار افراد کے خلاف قانونی اقدامات کیے گئے تاکہ انہیں ملک بدر کیا جاسکے۔

Comments

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

Leave a Reply