0

قائداعظم نے جناح ہاؤس کب اور کتنا خریدا تھا؟

جناح لاہور میں قائد اعظم کا قیام صرف دو گھنٹے رہا/فوٹوفائل
جناح لاہور میں قائد اعظم کا قیام صرف دو گھنٹے رہا/فوٹوفائل

اسلام آباد : عمران خان کی گرفتاری کے بعد لاہور کینٹ میں یہ قوت کے لیے فتح حاصل کرنے والا کور کمانڈر ہاؤس صرف اس تاریخی مقام کا حامل نہیں ہے کہ ایک تاریخی عمارت کو قومی ورثے کے تحت تحفظ حاصل تھا بلکہ اس کی حمایت بھی کی گئی تھی۔ یہ لاہور میں بنی پاکستان قائداعظم علی جناح کا گھر خریدا ہے۔

جناح لاہور کینٹ کے علاقے میں واقع یہ قلعہ لالہ شیو دیال سیٹھ کا نام تھا جو لاہور کی اہم سماجی شخصیت تھے اور انہوں نے 1935 میں اپنی موت سے کچھ پہلے یہ خواجہ نذیر احمد کو فروخت کر دیا۔ یہ بنگلہ دیش لالہ موہن لال کو فروخت کرتا ہے۔

جولائی 1943 میں قائداعظم محمد علی جناح نے یہ بنگلہ دیش موہن لال سے ایک لاکھ 62 ہزار 5 سو روپے میں خریدا۔

قائداعظم نے جب بنگلہ دیش یہ بنگلہ دیش خریدنا ہے تو اسے پہلے فوج نے کرایہ پر حاصل کر رکھا تھا جسے ماہانہ کرایہ پر علامتی طور پر 5 روپیہ ان کے ڈیفنس آف انڈیا رول کے تحت بلاکس فوج نے بھی حاصل کیا تھا۔

جب قائداعظم نے یہ بنگلہ دیش خرید لیا تو فوج کی کرایہ داری کی معیاد ختم ہونے والی تھی تاہم فوج نے پھر اس رول کے تحت اس معیاد میں توسیع کی۔

قائداعظم اور اپوزیشن لیڈر کے مشیر و خطیب کے درمیان ڈیڑھ سال کتابت رہی ہے ہندی مونٹ بیٹن کی طرف سے جون کا منصوبہ 3 جون کا منصوبہ جب خطے کے پولیس کو پتہ چلا کہ لاہور کینٹ بنگلہ دیش کے مالک پاکستان کے پہلے جنرل نامزد ہوچکے۔

یکم اگست 1947 کو کرنل اے نے قائداعظم کو 31 اگست 1947 کو لکھا کہ بنگلہ دیش خالی کرنے کے لیے آر خط بار خط لیکن قائداعظم اپنی ذاتی ذاتیات کے لیے بنگلہ دیش کو واپس نہیں لے سکتے تو 31 جنوری 1948 تک کرایہ کے نام میں توسیع۔ کر کرنا

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

Leave a Reply