0

بڑی تعداد میں کاروبار دیوالیہ ہونے کی وجہ سامنے آ گئی

برلن: جرمنی میں دیوالیہ ہو جانے کا اعلان کرنے والے کاروباری اداروں اور افراد کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔

جرمن وفاقی دفتر شماریات (ڈیسٹاٹس) نے منگل کے روز اپنی سالانہ رپورٹ کی ابتدائی تفصیلات شائع کرتے ہوئے کہا ہے کہ اکتوبر 2022 کے مقابلے اکتوبر 2023 میں دیوالیہ پن کی درخواستوں میں 22.4 فی صد کا اضافہ ہو گیا ہے، جب کہ ستمبر میں اس تعداد میں 19.5 فی صد کا اضافہ ہوا تھا۔

حکام کا کہنا ہے کہ یہ وہ کاروبار اور کمپنیاں ہیں جو کاروبار کے میدان ہی سے مکمل طور پر باہر ہو گئی ہیں، ان میں وہ کمپنیاں شامل نہیں ہیں جو جبری دیوالیہ کا شکار ہیں یعنی جو بلوں کی ادائیگی میں ناکام رہیں یا دیگر وجوہ کے سبب جبری دیوالیہ ہوئیں۔

ماہرین نے دیوالیہ ہونے کے عمل کی وجہ بیان کرتے ہوئے کہا ہے کہ مذکورہ کمپنیوں نے خود کو مستقبل کے لیے تیار نہیں کیا تھا، یہ ان کے کاروبار کی فطری نقص تھا جس کی وجہ سے وہ دیوالیہ ہوئیں۔

جرمن رجسٹرڈ ایسوسی ایشن آف سالوینسی ایڈمنسٹریٹرز (وی آئی ڈی) کے چیئرمین کرسٹوف نائیرنگ نے کہا کہ جن کمپنیوں کے پاس مستقبل کے لیے کوئی قابل عمل کاروباری تصور نہیں ہے، ان کا ختم ہونا کتنا ضروری ہے، اس بات کا اندازہ مخصوص صلاحیتوں والے مزدوروں کی قلت اور آبادی کے رجحانات سے لگایا جا سکتا ہے۔

انھوں نے کہا کرونا وائرس کی وبا اور توانائی کے بحران کے دوران جب کمپنیاں جبری دیوالیہ پن کا شکار ہوئیں تو حکومت کی جانب سے مدد کی گئی اور قوانین میں نرمی برتی گئی، اس کی وجہ سے کمپنیوں میں مصنوعی بہتری آئی، اس لیے اب دیوالیہ پن میں اضافہ ہونا معمول کی بات ہے۔

اعداد و شمار کے مطابق سب سے زیادہ دیوالیہ کمپنیوں کا تعلق نقل و حمل اور اسٹوریج کے شعبوں سے ہے، اس کے بعد سروس انڈسٹری کا نمبر آتا ہے۔ کرسٹوف نائیرنگ کے مطابق کنسٹرکشن اور ریئل اسٹیٹ کے شعبوں کے بھی آئندہ دیوالیہ ہونے کے امکانات ہیں۔

Comments

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

Leave a Reply