0

جیمز ویب ٹیلی اسکوپ نے نظام شمسی کے اسرار تجزیہ میں پانی کا جائزہ لیا۔

سیارچہ کا ایک خاکہ / تصاویر بشکریہ ناسا
سیارچہ کا ایک خاکہ / تصاویر بشکریہ ناسا

انسانی تاریخ سب سے ٹیلی ویژن اسکوپ جیمز ویب سائٹ نے نظام شمسی سے ایک اور رازداری کی بات کی۔

امریکی خلائی تنظیم جیمز ویب ٹیلی اسکوپ نے ایک سیارچے کو بخارات کے پانی سے ملایا۔

یہ پہلی بار جب مرکزی سیارچوی پٹی میں موجود ایک سیارچے میں پانی کے بخارات کو آپ کے پاس کیا ہے.

محققین نے جیمز ویب کو استعمال کرتے ہوئے ہمارے نظام شمسی کی ایک منفرد سیارچ کی جانچ پڑتال کی۔

انہوں نے کہا کہ مریخ اور مشتری کے مدارس کے درمیان موجود سیارچوی پٹی کے ایک سیارچے میں پانی کو شامل کیا گیا ہے۔

ان کی جانب سے 15 نظام شمسی کے محققین کے تجربات کے بارے میں تحقیق کی کوشش کی جا رہی تھی تاہم اب تک کوئی خاص کامیابی حاصل نہیں ہوئی۔

اس بات کی تصدیق ہوئی ہے کہ سورج کے پاس موجود سیارچوں میں برفانی خیال پانی ہے لیکن اس کی پہلی تصدیق ہوئی ہے۔

آپ کو بخارات کے نام سے پہچانا گیا ہے کہ برفانی پانی کے نظام کو گرم کرنے میں بھی پانی نہیں رہ سکتا۔

سیچہ پلس کی جیمز ویب کی کی گئی تصویر / تصاویر بشکریہ ناسا
سیچہ پلس کی جیمز ویب کی کی گئی تصویر / تصاویر بشکریہ ناسا

محققین نے بتایا کہ ماضی میں ہم نے اس پٹی کے سیارچوں کا مشاہدہ کیا تھا لیکن جیمز ویب کے ڈیٹا کی بدولت اب دعویٰ کر سکتے ہیں کہ ان میں برفانی پانی موجود ہو سکتا ہے۔

اس سیارچے میں کاربن ڈی آکسائیڈ گیس موجود نہیں تھی جس کے پاس موجود نہیں تھا۔

انہوں نے بتایا کہ اس کے آغاز میں یہ گیس موجود تھی لیکن درجہ حرارت میں وہ غائب ہو گیا۔

اب محققین کی جانب سے اس پٹی کے دیگر سیارچوں میں کاربن ڈی آکسائیڈ کی سطح کا جائزہ لیا جائے گا اور مزید رازوں سے پردہ ملک کیا جائے گا۔

اس تحقیق سے ماہرین کو زمین میں پانی کی تلاش میں مدد ملے گی، کیوں کہ ابھی تک ہمارے پاس پانی نہیں آیا۔

اس تحقیق کے نتائج جرنل نیچر میں شائع کریں

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

Leave a Reply