0

مودی سرکار نے 4 قبائلی کارکنان کی ’دھمکی‘ سے گھبرا کر انھیں گرفتار کر لیا

جھارکھنڈ: بھارتی وزیر اعظم مودی کے دورہ جھارکھنڈ کے دن خود سوزی کا اعلان کرنے والے چار قبائلی کارکنوں کو گرفتار کر لیا گیا۔

بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق نریندر مودی کے دورہ جھارکھنڈ کے موقع پر آج ہندوستان کی مردم شماری میں قبائلیوں کی آزادانہ مذہبی گنتی کا مطالبہ کرنے والی تنظیم ’آدیواسی سینگال ابھیان‘ کے چارکارکنوں نے خود سوزی کا اعلان کیا تھا، جس پر حکام نے گھبرا کر انھیں حراست میں لے لیا۔

تنظیم کے سربراہ اور سابق بی جے پی رکن پارلیمنٹ سالکھن مرمو نے کارکنوں کی گرفتاری کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ ان میں مختلف اضلاع سے تعلق رکھنے والے شہری چندر موہن مارڈی، پرتھوی مرمو، وکرم ہیمبرام اور کانہورام ٹوڈو شامل ہیں۔ ان کارکنوں نے مودی کے دورے کے دن گاؤں الیہاتو میں خود کشی کی دھمکی دے رکھی تھی۔

واضح رہے آج 15 نومبر کو مودی تحریک آزادی کے قبائلی ہیرو برسا منڈا کو ان کی یوم پیدائش پر خراج عقیدت پیش کرنے کے لیے کھونٹی ضلع میں ان کے گاؤں الیہاتو کا دورہ کرنے والے تھے۔

تنظیم ’آدیواسی سینگال ابھیان‘ کے کارکنوں نے دھمکی دی تھی کہ اگر اس دن مودی نے ہندوستان کی مردم شماری میں قبائلیوں کے لیے علیحدہ مذہبی ضابطے کی فراہمی کا اعلان نہیں کیا تو وہ وہیں خود کشی کر لیں گے۔

واضح رہے کہ ہندوستان میں مردم شماری کے لیے استعمال ہونے والے فارم میں مذہب کے کالم میں قبائلی برادری کے لیے الگ شناخت درج کرنے کا کوئی آپشن نہیں ہے۔ مردم شماری فارم میں ہندو، اسلام، سکھ، عیسائیت، بدھ مت اور جین کے علاوہ دیگر مذاہب کے پیروکاروں کا ڈیٹا ’دیگر‘ کے طور پر جاری کیا جاتا ہے۔ قبائلیوں کا کہنا ہے کہ وہ ’سرنا مذہب‘ کی پیروی کرتے ہیں، اور پورے ملک میں ان کی ایک بڑی آبادی ہے، اس لیے انھیں ملک میں ایک منفرد اور الگ شناخت دلانے کے لیے مردم شماری کے فارم میں سرنا مذہب کے ضابطے کا کالم ضروری ہے۔

Comments

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

Leave a Reply