0

حماس سے قیدیوں کی رہائی کیلیے اسرائیلی اسپائی ویئر بھی ناکام؟

حماس کی قید میں موجود اسرائیل اپنے شہریوں کا پتہ لگانے کے لیے بدنام زمانہ ہیکنگ سوفٹ ویئر پیگاسس اسپائی ویئر کا استعمال کر رہا ہے۔

امریکی نیوز سائٹ Axios رپورٹ کر رہی ہے کہ اسرائیل کی فوج NSO گروپ کے بدنام زمانہ اسپائی ویئر پیگاسس کو اپنے قیدیوں کا پتہ لگانے کے لیے استعمال کر رہی ہے۔

اس نے “این ایس او کی کارروائیوں کی براہ راست معلومات کے ساتھ” ایک نامعلوم ذریعہ کے حوالے سے کہا کہ 7 اکتوبر کے حماس کے حملے کے بعد سے لاپتہ افراد کے “فون کو ٹریک اور ان لاک” کرنے کے لیے دیگر ٹیک فرموں کے ساتھ ایک “وار روم” قائم کیا گیا ہے۔

ذرائع کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ میرے خیال میں حکومت کے لوگ — اسرائیل میں اور اسرائیل سے باہر — اور عوام اب اس قسم کے آلات کی قدر اور ان کی ضرورت کو زیادہ بہتر سمجھتے ہیں۔

نیوز رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ NSO اپنی مصنوعات کو امریکا کی بلیک لسٹ سے نکالنے کی کوشش کر رہی ہے۔

پیگاسس اسپائی ویئر کو دنیا بھر کی حکومتوں سے منسلک کیا گیا ہے جو صحافیوں، کارکنوں اور سیاست دانوں کی نگرانی کے لیے اس کی ٹیکنالوجی کا استعمال کر رہی ہیں۔

 

واشنگٹن پوسٹ کی جانب سے جاری ایک ہوش رُبا رپورٹ میں اسرائیلی ہیکنگ سافٹ ویئر کے انکشاف کے بعد لوگ حیران ہیں کہ یہ کس قسم کا سافٹ ویئر ہے، یہاں ہم آپ کو اس کے بارے میں بتاتے ہیں کہ پیگاسس اسپائی ویئر کس طرح فون کو ہیک کرتا ہے۔

پیگاسس ایک ہیکنگ ویئر (یا اسپائی ویئر) ہے، جسے اسرائیلی ٹیکنالوجی کمپنی NSO Group نے بنایا، ایک عالمی غیر سرکاری تنظیم کے مطابق یہ فرم ایک ایسا سافٹ ویئر تیار کرنے کے لیے قائم کیا گیا تھا، جو ڈیجیٹل رازداری کو نظر انداز کرتے ہوئے کسی بھی ڈیجیٹل آلات تک رسائی کے لیے خفیہ ادارہ اور لا انفورسمنٹ کی مدد کر سکے۔

اس جاسوس گروپ نے دعویٰ کیا ہے کہ صرف سنجیدہ جرائم اور دہشت گردی سے نمٹنے کے لیے گورنمنٹ ایجنسیز اس کا استعمال کرتی ہیں۔ ‘سٹیزن لیب’ کی 2018 کی ایک رپورٹ کے مطابق یہ اسپائی ویئر مبینہ طور پر 45 ممالک میں استعمال کیا جا رہا ہے، جن میں بھارت، بحرین، قازقستان، میکسیکو، مراکش، سعودی عرب، اور متحدہ عرب امارات شامل ہیں۔

دراصل پیگاسس ہیکنگ ویئر اسمارٹ فونز کی نگرانی کر سکتا ہے، یہ آپ کے کالز کو ریکارڈ کر سکتا ہے، میسجز کو کاپی کر سکتا ہے اور خفیہ طور پر آپ کی فلم بھی بنا سکتا ہے۔

’کیو سوئیٹ اور ٹرائی ٹینڈ‘ کے ناموں سے بھی مشہور یہ خفیہ سافٹ وئیر واٹس ایپ کال یا ویب سائٹ لنک کے ذریعے فون کو ہیک کر سکتا ہے، عام طور پر اس کے تحت اپنے شکار کو راغب کرنے کے لیے ایک طرح ’فیشنگ لنک‘ کے ساتھ ٹیکسٹ میسج کو استعمال کر کے پاس ورڈ، فون نمبر، ٹیکسٹ میسج اور تصاویر چوری کی جاتی ہیں۔

این ایس او نے مبینہ طور پر جعلی واٹس ایپ گروپ بھی بنائے، جیسے ہی اس لنک پر کلک کرتے ہیں یہ خفیہ سافٹ ویئر متاثرہ کے علم کے بغیر ڈاؤن لوڈ ہو جاتا ہے اور اس طرح ہیکرز کو ڈیوائس کو کنٹرول کرنے کا موقع مل جاتا ہے، اس کے بعد ہیکر اس بات کو یقینی بناتا ہے کہ وہ اسپائی ویئر کی مدد سے ڈیوائس کی تمام معلومات حاصل کر سکے۔

لیکن سوال یہ ہے کہ ایسی کیا چیز پیگاسس کو ’زبردست اسپائی ویئر‘ بناتی ہے جو آسانی سے پاس ورڈ، فون نمبر، کلینڈر، میسج، لائیو وائس کال، انکرپٹڈ آڈیو اسٹریم، فون کا کیمرہ، مائیکرو فون، جی پی ایس اور یہاں تک کے آپ کے انکرپٹڈ میسج تک چوری کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

اس اسپائی ویئر کا ایک اور اہم پہلو یہ ہے کہ اگر یہ فون میں انسٹال نہیں ہوتا اور ہیکرز کے ساتھ رابطہ قائم نہیں کر پاتا ہے تو یہ خود بخود 60 دن کے اندر تباہ ہو جاتا ہے، اس کے علاوہ یہ اینٹی وائرس کی گرفت سے بھی بچ سکتا ہے۔

اب واٹس ایپ، ایپل، گوگل اور مائیکروسافٹ جیسی متعدد کمپنیوں نے اپنے سیکیورٹی خامیوں کو دور کرنے کے لیے اپنے سافٹ ویئر کو مزید مستحکم کر دیا ہے، لیکن یہ ممکن ہے کہ اسپائی ویئر کے نئے ورژن اب بھی نئے خطرات پیدا کر سکتے ہیں۔

سائبر ماہرین کے مطابق ایک بار جب پیگاسس کسی ڈیوائس کو متاثر کرتا ہے تو اس ڈیوائس کو بند کرنے کے علاوہ دوسرا کوئی آپشن نہیں ہوتا۔

ہیکنگ سے بچنے کیلئے خصوصی ایپلیکیشن کی تیاری

اس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یہ اب تک بنایا جانے والا سب سے طاقت ور اسپائی ویئر ہے، ایک بار جب یہ آپ کے فون میں جگہ بنا لیتا ہے، تو پھر آپ کو بھنک بھی نہیں پڑتی اور اس کے ذریعے آپ کا فون ہی نگرانی کے ڈیوائس میں بدل جاتا ہے، آپ جو میسج بھیجیں گے یا وصول کریں گے، پیگاسس انھیں کاپی کر سکتا ہے، آپ کی تصاویر چوری کر سکتا ہے اور کالز ریکارڈ کر سکتا ہے، اور آپ کے فون کیمرے کے ذریعے آپ کی فلم بنا سکتا ہے، یا مائیکرو فون کو ایکٹویٹ کر کے آپ کی گفتگو بھی سن سکتا ہے، یہ بتا سکتا ہے کہ آپ کب کہاں گئے۔

اس ہیکنگ ویئر میں اربوں فونز کو انفیکٹ کرنے کی صلاحیت موجود ہے، جو اینڈرائیڈ یا iOS آپریٹنگ سسٹمز پر چلتے ہوں۔

2019 میں واٹس ایپ نے انکشاف کیا تھا کہ این ایس او کے سافٹ ویئر کے ذریعے 14 سو موبائل فونز کو میلویئر بھیجا گیا، یہ بھی انکشاف ہوا کہ سادہ سی واٹس ایپ کال بھی پیگاسس کوڈ آپ کے موبائل میں انسٹال کر سکتی ہے، خواہ ٹارگٹ ہونے والے شخص نے اس کال کو وصول بھی نہ کیا ہو، حال ہی میں اس کمپنی نے ایپل کے آئی میسج سافٹ ویئر کو بھی فونز کو ہیکنگ کے لیے استعمال کیا، ایپل کا کہنا تھا کہ وہ ایسے حملوں سے بچنے کے لیے مستقل طور پر اپنے سافٹ ویئر کو اپ ڈیٹ کرتی رہتی ہے۔

Comments

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

Leave a Reply