0

”جب کوئی ہمارے ساتھ گستاخی کرے تو اپنی جان بچا کے نہیں لے جا سکتا“ –

ہمارے اس ملک میں صحیح معنوں میں کثیرُ المطالعہ لوگ انگلیوں پر گنے جا سکتے ہیں۔ ان میں سے کچھ کو ہم جانتے ہیں اور کچھ لوگ ایسے ہیں جن کا انکشاف ہمیں ان کی تحریریں پڑھ کر ہوتا ہے۔

کوئی شک نہیں کہ سیّد علی عباس جلالپوری ان کثیرُ المطالعہ لوگوں کی اقلیت سے تعلق رکھتے تھے۔ انہوں نے بہت پڑھا تھا اور جو پڑھا تھا اس کے بارے میں سوچ بچار کیا تھا اور اس کو ہضم کر کے اپنی ذہنی و فکری وجود کا جزو بنایا تھا۔

مطالعے کی اس وسعت کے ساتھ ان کی دل چسپیوں کے میدان بھی گوناگوں تھے جو نفسیات، ناول و افسانہ، موسیقی اور مصوری سے ہوتے ہوئے جنسیات تک چلے گئے تھے۔ ایک دفعہ میں نے ان سے پوچھا کہ انہوں نے اپنی زندگی میں یہ سب کچھ کیسے کر لیا تھا؟ انہوں نے اس کا جو جواب دیا، اسے سن کر مجھے اپنی زندگی کے رائیگاں چلے جانے کا بہت افسوس ہوا۔ کہنے لگے ”سیّد صاحب! اس میں میرا کوئی بڑا کمال نہیں ہے۔ میں نے بس اتنا کیا ہے کہ زندگی میں اپنا وقت بہت کفایت شعاری سے استعمال کیا ہے۔ میں نے اسے روزمرہ کے فضول مشاغل میں ضائع نہیں ہونے دیا۔ میں نے کبھی بے مقصد مطالعہ نہیں کیا اور جو کچھ بھی پڑھا ہے ایک منصوبے کے تحت پڑھا ہے، چاہے وہ فلسفہ ہو، تاریخ ہو یا ناول و افسانہ ہو اور پھر اس کے باقاعدہ نوٹس (Notes) لیے ہیں اور میرے ان نوٹس کے پلندوں سے بوریاں بھر گئی ہیں۔ چنانچہ آج کل کسی موضوع پر لکھتے ہوئے مجھے جب بھی ان پڑھی ہوئی کتابوں کی طرف رجوع لانے یا ان کا حوالہ دینے کی ضرورت پیش آتی ہے، میں اپنے یہی نوٹس نکال کر سامنے رکھ لیتا ہوں اور وہ سب کچھ جو میں نے پڑھا تھا، مستحضر ہو جاتا ہے۔“

لیکن پتا نہیں کیوں اس سارے مطالعے اور علم و دانش کے باوجود شاہ صاحب کی شخصیت اور مزاج میں ایک کمی محسوس ہوتی تھی اور وہ کمی تھی رواداری اور لچک کی، مخالف کی بات برداشت کرنے کی….ایسی کمی جس کی توقع ایک اسکالر سے نہیں کی جاتی۔

مجھے کئی موقعوں پر یوں لگا کہ شاہ صاحب میں بعض چیزوں کے حق میں اور بعض چیزوں کے خلاف خاصا تعصب موجود ہے اور اس معاملے میں ان کا رویہ بالکل بے لچک ہے۔ وہ جب کسی بات پر اڑ جاتے تو پھر اس کے خلاف کوئی دلیل نہ سنتے۔ اس کی وجہ شاید یہ ہو کہ وہ زندگی بھر تدریس کے منصب پر فائز رہے اور استاد حضرات کے مخاطب ہمیشہ چونکہ ان کے کم علم شاگرد ہوتے ہیں۔ اس لیے وہ دوسرے لوگوں سے بھی جب بات کرتے ہیں تو لاشعوری طور پر استادی کی سطح ہی سے بات کرتے ہیں یا اس کی وجہ شاہ صاحب کا وہ خاص مزاج اور طبیعت ہو سکتی ہے جو انہیں قدرت کی طرف سے ودیعت ہوئی تھی۔ کچھ بھی ہو شاہ صاحب کو اپنی اس مزاجی خصوصیت کی وجہ سے بعض موقعوں پر کافی ناخوش گوار صورت حال کا سامنا کرنا پڑا۔ اس سلسلے میں ایک واقعہ میرے ذہن میں آتا ہے:

ایک دن حسبِ معمول ”فنون“ کی محفل جمی ہوئی تھی کہ اتفاق سے سابق مشرقی پاکستان سے تعلق رکھنے والے نظم گو شاعر صلاح الدّین محمد آ نکلے۔ پہلے تو کچھ شعر و سخن پر گفتگو ہوئی، پھر باتیں سیاست کی طرف چل نکلیں۔ صلاح الدین محمد کا خیال تھا کہ دوسرے صوبوں اور خصوصاً کراچی اور اس میں آباد اُردو بولنے والے طبقے کے ساتھ اہلِ پنجاب کا رویہ ہم دردانہ اور منصفانہ نہیں تھا۔ شاہ صاحب نے حسبِ توقع پنجاب اور اہلِ پنجاب کا دفاع کیا اور اپنی بات کے حق میں دلائل دیے، لیکن اس بحث میں دونوں طرف کچھ تیزی آ گئی۔ شاہ صاحب اپنی بات پر اڑے ہوئے تھے۔ اتنے میں صلاح الدّین محمد کی زبان سے بے اختیار یہ جملہ نکل گیا، ”سید صاحب! آپ بھی اپنے علم کے باوجود نہایت متعصب اور پست ذہنیت رکھنے والے انسان ہیں۔“ یہ سننا تھا کہ شاہ صاحب جلال میں آ گئے اور غصے میں بے قابو ہو کر اس مہمان کو ایسی بے نقط سنائیں کہ سب لوگ ہکا بکا رہ گئے۔

ان کی اس تیز و تند تقریر کا ٹیپ کا جملہ یہ تھا کہ ”ہم جلالپور کے رہنے والے ہیں، جب کوئی ہمارے ساتھ اس طرح گستاخی کرے تو وہ اپنی جان بچا کے نہیں لے جا سکتا۔“ صلاح الدّین محمد کو فوراً ہی احساس ہوا کہ ان سے بہت بڑی غلطی سرزد ہو گئی ہے۔ اب وہ معذرت کر رہے ہیں، معافی مانگ رہے ہیں کہ یہ فقرہ ان کے منہ سے بے ساختہ سوچے سمجھے نکل گیا ہے لیکن شاہ صاحب کا پارہ جب ایک دفعہ چڑھ گیا تو نیچے اترنے کا نام ہی نہیں لے رہا تھا۔ اتنے میں وہ اٹھے اور اپنی چھڑی سنبھال دفتر کی سیڑھیاں اتر کر نیچے چلے گئے۔

اس افسوس ناک واقعے کے بعد شاہ صاحب نے ”فنون“ کے دفتر آنا چھوڑ دیا اور کسی کے ہاتھ کوئی پیغام بھی نہ بھیجا۔ ہم لوگوں نے پہلے کچھ عرصہ تو ان کے آنے کا انتظار کیا لیکن جب ان کی غیر حاضری کو ایک مہینہ گزر گیا تو مدیر ”فنون“ اور راقم السّطور نے طے کیا کہ ان کے گھر جا کر انہیں منانے کی کوشش کرنی چاہیے۔ چنانچہ ایک دن ہم ان کے گھر ساندہ جا نکلے۔ ہم اندر سے ڈر رہے تھے کہ خدا جانے ہمیں یوں دیکھ کر ان کا فوری ردعمل کیا ہو گا۔ ہم نے جب گھنٹی بجائی تو یہ امکان بھی ہم نے سوچ رکھا تھا کہ شاہ صاحب جب باہر نکل کر ہمیں دیکھیں گے تو بڑی رکھائی سے کہیں گے ”فرمائیے، آپ صاحبان نے کیسے زحمت کی!“ لیکن خدا کا شکر کہ ایسا کچھ بھی نہ ہوا۔ شاہ صاحب باہر آئے تو ہم دونوں کو دیکھ کر نہال ہو گئے۔ مسکراتے ہوئے ہم سے ملے اور ہمیں اندر لے گئے۔ اِدھر اُدھر کا حال دریافت کرتے رہے۔ چائے اور فرنچ ٹوسٹوں کے ساتھ ہماری تواضع کی۔ پھر پیشتر اس کے کہ ہم کچھ بولیں، خود ہی کہنے لگے ”اس دن میں نے جو کچھ کیا وہ ٹھیک نہیں تھا، مجھے ایسا نہیں کرنا چاہیے تھا لیکن میری مجبوری یہ ہے کہ میں ہائی بلڈ پریشر کا مریض ہوں۔ جب کوئی ناگوار بات سن کر مجھے غصہ آتا ہے تو یہ بلڈ پریشر یکلخت شوٹ کر جاتا ہے اور میرے لیے اپنے آپ کو قابو میں رکھنا ناممکن ہو جاتا ہے۔ بہرحال مجھے اس واقعے کا بہت افسوس ہے۔“ ہم نے شاہ صاحب کو اطمینان دلایا کہ وہ بات آ گئی ہو گئی ہے اور ان کے لیے اب گھر میں محصور رہنے کی کوئی ضرورت نہیں۔ ہم ”فنون“ کی محفل سے ان کی غیر حاضری کو بہت محسوس کر رہے ہیں، اس لیے مہربانی کر کے اب وہ آنا شروع کر دیں۔ شاہ صاحب نے ہماری بات مان لی اور ان کے آجانے سے ”فنون“ کی ہفتہ وار مجلس پھر سے آباد ہو گئی۔

(اردو کے ممتاز محقّق، مترجم اور عربی داں محمد کاظم کے ایک مضمون سے اقتباس)

Comments

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

Leave a Reply