0

سول اسپتال کوئٹہ میں کانگو وائرس کیسے پھیلا؟ انکوائری میں اہم انکشاف

اسلام آباد: کوئٹہ کے سول اسپتال میں کانگو کیسز کے پھیلاؤ کی ابتدائی انکوائری مکمل ہو گئی، اسپتال انتظامیہ اور عملے کی غفلت اور لاپرواہی سے وائرس نے وبائی صورت اختیار کی، جب کہ اسپتال میں حفاظتی اقدامات پر عمل درآمد کا بھی شدید فقدان پایا گیا۔

وزارت قومی صحت کے ذرائع کے مطابق وفاقی حکومت کی ہدایت پر کوئٹہ میں کانگو کیسز کی ابتدائی انکوائری کی گئی، ذرائع سے موصول ہونے والی کانگو کیسز کی فیکٹ شیٹ رپورٹ کے مطابق خصوصی تحقیقاتی ٹیم نے صوبائی ریفرنس لیب کوئٹہ، پی ڈی ایس آر یو سمیت سول سیندیمان ہاسپٹل اور فاطمہ جناح اسپتال کوئٹہ کا دورہ کیا۔

ٹیم نے سول اسپتال کوئٹہ کی انتظامیہ، ڈاکٹرز اور عملے سے ملاقاتیں کیں، تحقیقاتی ٹیم نے سول اسپتال کے آئی سی یو، سی سی یو، ڈائیلائسز سینٹر اور میڈیکل یونٹس سمیت مختلف وارڈز کا معائنہ کیا، تاہم تحقیقاتی ٹیم کی سول اسپتال کے کانگو پازیٹو ڈاکٹرز سے ملاقات نہیں ہوئی۔

رپورٹ کے مطابق پشین کا رہائشی مریض سول اسپتال میں کانگو کے پھیلاؤ کی وجہ بنا، سول اسپتال میں پہلا کانگو کیس 21 اکتوبر کو رپورٹ ہوا تھا، 45 سالہ حبیب الرحمٰن کو طبیعت خراب ہونے پر پشین سے کوئٹہ لایا گیا تھا، مریض میں 25 اکتوبر کو کانگو کی تصدیق ہوئی۔ مریض کو 30 اکتوبر کو اسپتال سے ڈسچارج کیا گیا۔

ذرائع کے مطابق 28 اور 29 اکتوبر کو سول اسپتال کے 3 ڈاکٹرز ڈاکٹر حاصل، ڈاکٹر گل شیر، اور ڈاکٹر شکر اللہ میں کانگو علامات ظاہر ہوئیں، کانگو سے متاثرہ ڈاکٹرز کا تعلق میڈیکل یونٹ، آئی سی یو سمیت شعبہ ریڈیالوجی اور ڈرماٹولوجی سے ہے، کانگو پازیٹو ڈاکٹرز روٹیشن پر مختلف وارڈز میں ڈیوٹی کر رہے تھے، اور میڈیکل یونٹ ون، تھری اور آئی سی یو میں ڈیوٹی پر تعینات تھے۔ یہ بھی معلوم ہوا کہ کانگو پازیٹو ڈاکٹرز آپس میں دوست ہیں، جو مریضوں اور اپنے ساتھیوں سے ملنے سی سی یو اور آئی سی یو وارڈز آتے تھے۔

رپورٹ کے مطابق سول اسپتال کوئٹہ کے 12 اسٹاف اراکین کانگو پازیٹو ہو چکے ہیں، اسپتال کے 8 ڈاکٹرز، 2 پیرامیڈکس، 1 گارڈ اور ایک نرس سمیت بارہ اراکین میں کانگو وائرس کی تصدیق ہو چکی ہے، ایک ڈاکٹر کانگو وائرس سے جاں بحق ہو چکا ہے جب کہ دیگر متاثرہ ڈاکٹرز اور عملے کے افراد علاج معالجہ کے لیے کراچی منتقل کیے گئے ہیں۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ سول اسپتال میں کانگو وائرس انتظامیہ اور عملے کی غفلت اور لاپرواہی سے پھیلا، سول اسپتال میں حفاظتی اقدامات پر عمل درآمد میں فقدان پایا گیا، ڈاکٹرز کو مریض سے کانگو وائرس ناقص حفاظتی اقدامات کے سبب منتقل ہوا، اور پھر ڈاکٹرز اور عملے کے میل جول، اور آلات کی منتقلی سے کانگو وائرس مزید پھیل گیا۔

تحقیقاتی کمیٹی کے دورے کے دوران سول اسپتال کے کانگو پازیٹو عملے کی فائل اور دیگر دستاویزات دستیاب نہیں تھیں، رپورٹ کے مطابق سول اسپتال کے ڈاکٹرز، ہیلتھ ورکرز گلوز، ماسک کا استعمال نہیں کرتے، آپریشن تھیٹرز کے سرجیکل آلات نان سٹرلائز تھے، آپریشن تھیٹرز میں عام و خاص آمد و رفت پائی گئی۔ اسپتال کے آئی سی یو اور میڈیکل یونٹس گندی حالت میں پائے گئے، آئی سی یو میں مریضوں کے اہل خانہ بلا روک ٹوک گھومتے پائے گئے۔

رپورٹ کے مطابق سول اسپتال کے آئی سی یو میں حفاظتی اقدامات کا فقدان پایا گیا، تحقیقاتی ٹیم کے دورے کے دوران آئی سی یو کے دروازے کھلے پائے گئے، اسپتال انتظامیہ نے کانگو کے مشتبہ مریض گھروں کو بھجوائے جب کہ اسپتال کے کانگو متاثرہ عملے کو قرنطینہ کے لیے رخصت پر بھجوایا گیا، سول اسپتال سے کانگو کے مشتبہ مریضوں کو بنا انٹری ڈسچارج کیا گیا اور ان کی رہنمائی بھی نہیں کی گئی، اور پازیٹو کانگو کیسز کی کانٹیکٹ ٹریسنگ نہیں کی گئی۔

کانگو پازیٹو ڈاکٹر منیب گھر پرقرنطینہ کے دوران اہل خانہ سے ملتے رہے، اسپتال میں صفائی کی حالت انتہائی نہ گفتہ بہ پائی گئی، طبی فضلہ ٹھکانے لگانے کا مناسب انتظام بھی نہیں تھا، اسپتال کا عملہ انفیکشن کے تدارک سے متعلق غفلت کا مرتکب پایا گیا، سول اسپتال کا عملہ مریضوں کی دیکھ بھال میں گلوز اور سینیٹائرز کا استعمال نہیں کرتا جب کہ اسپتال عملے کے ہاتھ دھونے کے لیے مناسب جگہ دستیاب نہیں تھی۔ آئی سی یو کا عملہ بھی گلوز اور ماسک کا استعمال نہیں کر رہا تھا۔

رپورٹ کے مطابق سول اسپتال کوئٹہ میں انفیکشن کے تدارک کے لیے مزید ٹھوس اقدامات کی ضرورت ہے، بلوچستان میں رواں سال 60 سے زائد کانگو کیسز جب کہ 17 ہلاکتیں رپورٹ ہو چکی ہیں، فاطمہ جناح اسپتال میں کانگو کیسز باقاعدگی سے رپورٹ ہو رہے ہیں، رواں سال 7 مارچ سے 6 نومبر تک فاطمہ جناح اسپتال میں 48 کانگو کیس زیر علاج رہے ہیں۔

Comments

کیٹاگری میں : صحت

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

Leave a Reply