0

گیسٹ ہاؤس کی خاتون ملازمہ اجتماعی عصمت دری کا شکار

نئی دہلی: اتر پردیش آگرہ میں ایک خاتون کے ساتھ مبینہ اجتماعی عصمت دری کے الزام میں پانچ افراد کو حراست میں لے لیا گیا ہے، جبکہ تین مشتبہ افراد فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے۔

آن لائن شیئر کی جانے والی پریشان کن ویڈیو میں، عصمت دری کا شکار ہونے سے بچ جانے والی لڑکی کو روتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے عصمت دری کا نشانہ بننے والی لڑکی ایک گھر کے گراؤنڈ فلور پر بالکونی کی ریلنگ کے ساتھ سہمی ہوئی فریاد کررہی ہے۔

سامنے آنے والی ویڈیو میں لڑکی چیختی ہوئی کہہ رہی ہے کہ ”میری چار بیٹیاں ہیں… وہ سب بہت چھوٹی ہیں… براہ کرم مجھے بچائیں“۔۔ لڑکی کہتی ہے کہ دیکھو انہوں نے میرے ساتھ کیا کیا؟۔

اسی دوران ایک شخص اس سے پوچھتا ہے کہ کیا وہ ملزمان کے نام بتا سکتی ہے۔ تو وہ جواب دیتی ہے، ریتو… ریا… للیتا… سونو… وکرم۔ ان سب کو گرفتار کرو، یہ سب جنسی درندگی میں ملوث ہیں، انہوں نے مجھے بلایا اور وہ مجھے بلیک میل کر رہے ہیں۔

پولیس کے مطابق خاتون ایک گیسٹ ہاؤس کی ملازم تھی اور تقریباً 18 ماہ سے وہاں کام کر رہی تھی۔ اس نے پولیس کو بتایا کہ اسے مزید پیسوں کے عوض جنسی کام کرنے کے لیے دھکیل دیا گیا تھا اور ہفتے کی رات گیسٹ ہاؤس آنے کو کہا گیا تھا۔

خاتون کے مطابق جب وہ واپس جا رہی تھی، گیسٹ ہاؤس کے مالکان نے مبینہ طور پر اسے رات وہیں رہنے کا کہا۔ اس نے دعویٰ کیا کہ جب اس نے انکار کیا تو اسے مارا پیٹا گیا۔

اعلیٰ پولیس افسر کا اس حوالے کہنا تھا کہ خاتون کا طبی معائنہ کیا جا رہا ہے اور قانونی کارروائی عمل میں لائی جارہی ہے، پولیس نے عصمت دری، حملہ اور تعزیرات ہند کی دیگر متعلقہ دفعات کے تحت مقدمات درج کرلئے ہیں۔

Comments

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

Leave a Reply