0

غزہ جنگ نے اسرائیلی معیشت کو بھی کہیں کا نہ چھوڑا

فلسطین میں حماس اور اسرائیل کے درمیان جاری جنگ نے اسرائیلی معیشت کو بھی شدید نقصان سے دوچار کیا ہے، اس جنگ کے تباہ کن اثرات نے سرمایہ کاروں کو بھی سوچنے پر مجبور کردیا۔

العربیہ اردو کی رپورٹ کے مطابق غزہ جنگ کے اسرائیل کی معاشی صورتحال پر مرتب ہونے والے تباہ کن اثرات نے ماہرین کو تشویش میں مبتلا کردیا۔

اقتصادی ماہرین کا خیال ہے کہ اسرائیل میں موجود بین الاقوامی کاروباری ادارے اور کمپنیاں اپنے کاروبار اور سرمایہ کاری واپس لینے پر غور کررہی ہیں۔

العربیہ بزنس کی جانب سے تیار کی گئی رپورٹس کے مطابق اعداد و شمار اور بیانات کے مطابق یہ واضح ہورہا ہے کہ اسرائیلی صارف اس وقت غیر ضروری مصنوعات کی خریداری سے گریز کرنے کی کوشش کر رہا ہے، جس کی وجہ سے تفریحی کمپنیوں اور لگژری مصنوعات کی فروخت کافی حد تک متاثر ہوئی ہے۔

اسرائیلی اخبار معاریو کی رپورٹ کے مطابق جنگ کے براہ راست اثرات میں سے خریداری میں کمی آئی ہے کیونکہ تفریحی سرگرمیوں اور دیگر آسائشی مصنوعات کی جگہ کھانے پینے اور حفاظتی مصنوعات نے لے لی ہے اور یہی بات اسرائیلی معیشت پر منفی اثرات مرتب کررہی ہے۔

اقتصادی ماہرین کا کہنا ہے کہ جنگ شروع ہونے کے ساتھ مقامی سطح پر اخراجات میں کمی دیکھی جارہی ہے، جنگ کے پہلے ہفتے میں چھوٹے کاروباروں نے تقریباً 34 فیصد کی کمی کا تناسب ریکارڈ کیا لیکن چوتھے ہفتے تک اس میں کچھ بہتری آئی اور تقریباً 22 فیصد کمی آئی۔

ان اعدادو شمار میں خوراک اور دوا ساز کمپنیاں شامل نہیں ہیں کیونکہ یہ بنیادی ضروریات ہیں۔ بہت سی کمپنیوں نے اپنے ملازمین کو بلامعاوضہ چھٹی لینے کو کہا ہے جبکہ بہت سے کاروبار بند کیے جاچکے ہیں، اشائے خورد ونوش کے اسٹورز بھی سامان کی شدید قلت کا شکار ہیں۔

Comments

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

Leave a Reply