0

سعودی عرب میں کام کرنے کے خواہشمندپاکستانیوں کیلئے بڑی خوشخبری

وزیر اعظم کے معاون خصوصی برائے اوورسیز پاکستانیز اور ترقی انسانی وسائل جواد سہراب ملک سعودی عرب میں باہمی تعاون کو فروغ دینے اور پاکستانی افرادی قوت کے لیے روزگار کے مواقع تلاش کرنے پر توجہ مرکوز کریں گے۔

تفصیلات کے مطابق وزیراعظم کے معاون خصوصی جواد سہراب ملک سعودی عرب کے پہلے پانچ روزہ سرکاری دورے پر ہیں۔

سعودی عرب کے وزیر محنت، نائب وزیر محنت اور اعلیٰ سعودی کمپنیوں کے سی ای اوز کے ساتھ اپنی ملاقاتوں کے دوران پاکستانی ہنر مند اور غیر ہنر مند مزدور افرادی قوت کے لیے کنسٹرکشن، ہوسپٹلیٹی، سروسز، نرسنگ اور کیئر سمیت وسیع تر شعبوں میں مزید مواقع کی ضرورت کو اجاگر کریں گے۔

سعودی عرب میں لیبر مارکیٹ کے بدلتے ہوئے رجحانات پر بھی بات چیت ہو گی۔ معاون خصوصی پاکستانی ہنر مند اور غیر ہنر مند افرادی قوت کے مسابقتی فوائد پیش کرتے ہوئے سعودی ہم منصب کو دوسرے ممالک سے پاکستانی کارکنوں کی خدمات حاصل کرنے پر بھی راغب کریں گے ۔

یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ سعودی عرب نے کئی اہم منصوبے شروع کیے ہیں جن سے لیبر مارکیٹ پر نمایاں اثر پڑنے کی توقع ہے۔

دورے کے دوران پاکستانی تارکین وطن کارکنوں کے لیے روزگار کے مواقع تلاش کرنے کے لیے جو اہم منصوبے زیر بحث آئیں گے، ان میں بحیرہ احمر پراجیکٹ، مکہ مکرمہ کے مقدس شہر کی توسیع کا ترقیاتی منصوبہ، تفریحی سیاحت کے منصوبے، نیو طائف شہر، نیوم پروجیکٹ، قدیوا پروجیکٹ، الدرعیہ گیٹس،الولا – یونیسکو کی عالمی ثقافتی ورثہ سائٹ، حمایا پروگرام، کنگ سلمان پارک اور گرین ریاض شامل ہیں۔

سعودی عرب میں کم مہارت کے زمرے میں پاکستانی کارکنوں کی ایک بڑی تعداد کے پیش نظر معاون خصوصی پیشہ ور افراد اور اعلیٰ ہنر مند افراد کے لیے بھی مواقع بڑھانے کی اہمیت پر زور دیں گے۔

اپنی ملاقاتوں کے دوران معاون خصوصی سعودی حکام کو خاص کر نیوم اور دیگر آنے والے منصوبوں کے لیے پاکستانی ہنر مند اور نیم ہنر مند کارکنوں کے لیے ایک خصوصی کوٹہ وقف کرنے کی تجویز پیش کریں گے۔

مزید برآں، بات چیت میں سعودی عرب کے لیے پاکستان میں ایک جدید ترین اسکل یونیورسٹی کے قیام کی تجویز بھی شامل ہو گی، جو کہ دونوں ملکوں کی اقتصادی ترقی کے لیے مفید ثابت ہو گی۔

معاون خصوصی سعودی سیکٹر میں نئے اوورسیز ایمپلائمنٹ پروموٹرز کے داخلے کی سہولت کے لیے اسلام آباد میں سعودی عرب کے سفارت خانے، قونصلیٹ جنرل کراچی اور پاکستانی حکام کے درمیان باہمی تعاون بڑھانے کی تجویز بھی پیش کریں گے۔

معاون خصوصی کے دورے کا مقصد پاکستان کی افرادی قوت کو وژن 2030 کے تحت سعودی عرب کے اقتصادی تبدیلی کے پروگرام کے ساتھ ہم آہنگ کرنا ہے،

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

Leave a Reply