0

چاول کی قیمتوں میں اضافے کا اصل ذمہ دار کون ؟

چاول دنیا بھر میں کھائی جانے والی مرغوب ترین غذا ہے جسے تین بلین سے زیادہ افراد اپنے دسترخوانوں کی زینت بناتے ہیں، تقریباً 90فیصد پانی کی ضرورت والی یہ فصل براعظم ایشیاء میں پیدا ہوتی ہے اور اس کی برآمدات میں بھی ایشیائی ممالک ہی سب سے آگے ہیں۔

گزشتہ چند ماہ میں چاول کی پیداوار میں کچھ کمی واقع ہوئی جس کی وجہ پانی کی کمی اور موسمیاتی تبدیلی بتائی جارہی ہے۔

عام طور پر مون سون کی بارشوں سے خطے میں چاول کی پیداوار کو تقویت ملتی ہے لیکن بارشوں میں کمی کے باعث دیگر غذائی اجناس کی فصلوں کی قیمتوں میں اضافے کی وجہ سے چاول کی فصل کو زمین کے لیے زیادہ مسابقت کا سامنا کرنا پڑا۔

گزشتہ ماہ جولائی میں چاول کی عالمی قیمتوں میں اچانک اضافہ ہوا جس سے دنیا بھر میں خوراک کی قلت کے خدشات مزید بڑھ گئے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ چاول کی بڑھتی ہوئی قیمتیں دیگر غذائی اجناس کے بحران کا سبب بنے گی جس سے عالمی سطح پر مہنگائی کی ایک اور لہر جنم لے سکتی ہے۔

india india

چاول کی عالمی برآمدات میں بھارت کا حصہ 40فیصد سے زائد ہے جو کہ سال 2022میں 56 ملین ٹن تک تھی۔ اس وقت عالمی سطح پر چاول کی قیمتیں گزشتہ 15سال کی نسبت بلند ترین سطح پر ہیں۔

بھارت کی جانب سے برآمدات پر پابندی اور خراب موسم کی وجہ سے فصل پر پڑنے والے اثرات کے باعث آنے والے دنوں میں اس کی قیمت میں مزید اضافہ متوقع ہے تاہم بھارت نے باسمتی چاول کی برآمدات پر کوئی پابندی عائد نہیں کی۔

بھارتی حکومت کی جانب سے پابندی لگانے کے اس فیصلے نے دیگر اشیائے خورد و نوش کی قیمتوں میں اضافے کے نئے خدشات کو جنم دیا جس سے گندم کی عالمی قیمتوں میں 10 فیصد سے زیادہ کا اضافہ ہوا جو کہ 16 ماہ سے زائد عرصے میں سب سے بڑا اضافہ ہے۔

فوڈ اینڈ ایگری کلچر آرگنائزیشن(ایف اے او) کا کہنا ہے کہ اگست میں چاول کی قیمتوں میں 9.8 فیصد اضافہ ہوا، بھارت کی چاول کی برآمدات پر پابندی اور غیریقینی صورت حال قیمتوں میں اضافے کا اصل سبب بنی۔ یاد رہے کہ بھارت نے جولائی2023 میں چاول کی برآمدات پر پابندی کا اعلان کیا تھا۔

چاول کی فصل چاول کی فصل

چاول کی منڈی میں یہ افراتفری اس وقت سامنے آئی جب بڑے اناج پیدا کرنے والے ممالک روس اور یوکرین کے درمیان جنگ کا آغاز ہوا جس کے بعد عالمی سطح پر غذائی اجناس کی قیمتیں اپنے عروج پر پہنچ گئی تھیں جو اب بتدریج کم ہو رہی ہیں۔

امریکی محکمہ زراعت (یو ایس ڈی اے) کے مطابق بھارت کے نان باسمتی چاول کی برآمدات پر پابندی سے ایک سال پہلے کے مقابلے میں 4.2 فیصد کمی واقع ہوگی جو سال 2023 میں 53.8ملین ٹن رہ جائے گی۔

واضح رہے کہ گزشتہ ماہ اکتوبر میں بھارتی حکومت نے اناج کی بیرون ملک فروخت پر پابندی کے بعد فیصلہ کیا تھا کہ باسمتی چاول کی برآمدی قیمتیں جو 1200ڈالر فی ٹن مقرر تھیں برقرار رکھی جائیں گی، یہ فیصلہ بھارتی حکومت نے ملک کی مختلف ریاستوں میں ہونے والے انتخابات کے پیش نظر قیمتوں کو مستحکم رکھنے کیلئے کیا تھا۔

rice rice

پاکستان سے چاول کی برآمدات

اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے اعداد و شمار کے مطابق ملک سے چاول کی برآمدات میں جاری مالی سال کی پہلی سہ ماہی میں سالانہ بنیادوں پر کمی سامنے آئی ہے، تاہم باسمتی چاول کی برآمدات میں اضافہ دیکھنے میں آیا۔

رپورٹ کے مطابق رواں مالی سال کی پہلی سہ ماہی میں چاول کی برآمدات سے ملک کو417.005 ملین ڈالر زرمبادلہ حاصل ہوا جو گزشتہ مالی سال کی اسی مدت کے مقابلے میں 27.16 فیصد کم ہے جبکہ گزشتہ مالی سال کی پہلی سہ ماہی میں چاول کی برآمدات سے ملک کو530.26 ملین ڈالر زرمبادلہ حاصل ہوا تھا۔

اعداد و شمار کے مطابق مالی سال کی پہلی سہ ماہی میں ’باسمتی چاول‘ کی برآمدات سے ملک کو187.35 ملین ڈالر زرمبادلہ حاصل ہوا جو گزشتہ مالی سال کی اسی مدت کے مقابلے میں 29 فیصد زیادہ ہے۔

Comments

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

Leave a Reply