0

آپ کس طرح ہماری صحت پر اثرات مرتب کرتے ہیں؟

آپ کس طرح ہماری صحت پر اثرات مرتب کرتے ہیں؟

ہمارے لیے آرام کے لیے بہت اہم ہے، کیوں کہ چند راتوں کی خرابی ہمیں چڑچڑا اور بدمزاج بناتی ہے۔

یہ صرف تھکاوٹ کا نتیجہ نہیں ہوتا بلکہ نقصان کی وجہ سے صحت کے اثرات مرتب ہوتے ہیں۔

ماہرین کی جانب سے بالغ افراد کو ہر رات کم از کم 7 گھنٹے کی یقینی بنانے کا نتیجہ دیا جاتا ہے۔

لیکن روزمرہ کی مصروفیات کے باعث اکثر افراد پوری نہیں کر پاتے، وجہ یہ ہے کہ دنیا بھر میں کروڑوں افراد بے خوابی کے شکار ہیں۔

بے خوابی سے نقاہت میں اضافہ ہوتا ہے اور پریشانی کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔

تو نیند کی کمی دماغ کو کیوں متاثر کرتی ہے؟

اس کی وجہ یہ ہے کہ اس کے دوران ہمارا دماغ بہت اہم کام کرتا ہے۔

دماغی اعصابی خلیات کے درمیان رابطوں کو بہتر کرتا ہے، زہریلی مواد کو خارج کرتا ہے اور دن بھر کی سرگرمیاں یادوں کی شکل میں محفوظ کرتا ہے۔

اگر نیند کا دورانیہ مختصر ہو تو دماغ کی ذہنی حالت ہوتی ہے اور اس کے اثرات متاثر ہوتے ہیں۔

دماغ کی کمی سے دماغ پر کیا اثرات مرتب ہوتے ہیں وہ آپ درج ذیل میں جان سکتے ہیں۔

مزاج پر اثرات

اگر نیند کی کمی پیدا ہو رہی ہے تو جذبات پر قابو پانے کی صلاحیت متاثر ہوتی ہے۔

یعنی اگر رات کو پوری نہیں ہوتی تو اگلے دن غصہ یا جذباتی جیسے جذبات کا غلبہ ہو سکتا ہے۔

تحقیقی رپورٹس کے مطابق نیند کی کمی سے مزاج پر منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں، لوگ زیادہ مشتعل اور جذباتی ردعمل ظاہر کرتے ہیں۔

مزاج میں پہلی یہ تبدیلیاں فیصلہ سازی کی صلاحیت کو بھی متاثر کرتی ہیں۔

دنیا کے بارے میں تصور بدل جاتا ہے۔

جب آپ کی غذا پوری نہیں ہوتی تو دنیا سے تعلق رکھنے سے بھی مشکل محسوس ہوتی ہے۔

بے خوابی کا دورانیہ طویل تو فریب خیالی یا جذبہ پراگندگی کا حصہ بھی بڑھ جائے

درحقیقت بے خوابیدہ راتیں اردگرد کے حالات کے بارے میں آپ کو تصورات کو تبدیل کریں۔

تناؤ پر قابو پانا مشکل ہوتا ہے۔

صحت اور تناؤ کا تعلق کافی دلچسپ ہے، شکار پر اچھی شکاری شکار کرنا مشکل ہوتا ہے، لیکن نیند کی کمی بھی آپ کو زیادہ تناؤ بناتی ہے۔

سستی، چڑچڑے پن اور زندگی میں عدم دلچسپی جیسے مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

توجہ مرکوز کرنا ضروری ہے۔

دماغ کی کمی کے لیے یادوں کو تشکیل دینا، توجہ دینا اور نئی بات سیکھنا مشکل ہو جاتا ہے۔

ناکافی نیند سے طاری ہونے والی تھکاوٹ کو عام ارد گرد سے بھی تشبیہ دی جاتی ہے کیونکہ اکثر حالات کو سمجھنا مشکل ہوتا ہے۔

اگر اکثر توجہ دلانے میں مشکلات کا سامنا ہوتا ہے تو بہتر ہے کہ اپنی نیند کی اصلاح کا جائزہ لیں۔

تحقیقی رپورٹس سے ثابت ہوا کہ مختلف حالات سے لوگوں کے ردعمل کا وقت بڑھ جاتا ہے اور توجہ مرکوز کرنا مشکل ہوتا ہے۔

ہارمونز متاثر ہوتے ہیں۔

آپ کے دماغ میں متعدد اہم کام ہیں جن میں ایک ہارمونز کے درمیان توازن پیدا کرنا بھی ہے۔

مجموعی ہارمون جسم کے اثرات کے لیے اہم آپ کا توازن بگاڑ کے جسم اور دونوں پر منفی اثرات مرتب کرتے ہیں۔

کئی بار ہارمون کا توازن بگاڑ سے بھی امن کے مسائل کا اجلاس ہوتا ہے۔

دماغی امراض کا خطرہ بڑھتا ہے۔

انزائٹی، ڈپریشن، سیزنل ایفیکٹیو ڈس آرڈر، بائی پولر ڈس آرڈر اور بارڈر لائن پرسنلٹی ڈس آرڈر جیسے جذباتی امراض کا خطرہ بڑھتا ہے۔

اسی طرح اگر آپ انزائٹی یا ڈپریشن کے شکار ہیں تو نیند کی کمی سے امراض کی شدت میں اضافہ ہوتا ہے۔

نوٹ: یہ مضمون طبی جریدوں میں شائع کی گئی تفصیلات پر، قارین اسباق سے اپنے معالج سے بھی ضروری ہے۔

کیٹاگری میں : صحت

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

Leave a Reply