0

طاقت بمقابلہ سیاست

پاس پاس فوج طاقت جبکہ عمران خان کے پاس سیاست، پاکستان کس کی؟ موجودہ سیاسی بحران 1971 سے زیادہ گمبھیر، روح فرسا نتائج کو۔ آئین پاکستان دبدبہ نافذ، بحران کا حل آئین میں نہ ہی ماورائے آئینی اقدامات میں۔

“جنرل عاصم منیر کے پاس اس کے علاوہ کوئی چوائس نہیں ہے کہ اس سے اجتناب کریں اور اگلے چند سال وطنی استحکام کو یقینی بنائیں۔ عمران خان کو سلامتی، وہ اپنی بے اختیار مقبولیت کو اپنی عافیت اور سلامتی جان چُکے جبکہ اسٹیبلشمنٹ کا غیر یقینی اعتماد ضروری ہے۔ میرے نزدیک دونوں تصورات ادھورے، وطن عزیز کیلئے قاتل ثابت کالم ثابت” (پچھلے کا آخری نمونہ)۔ یہ بات آگے بڑھنے کے بارے میں بتانا ہے۔ فارمیشن کمیشنرز میٹنگ کے آرڈینمنٹ کا پالیسی بیان سامنے، آنیوالےدنوں میں بہت کچھ کرنے کا عزم جتلایا۔

حقیقت نتیجہ نتیجہ کو۔ سانحہ 9 مئی پاکستان کی چولیں ہلا گیا، مداوا ممکن ہے۔ کا ذمہ دار اکلوتا عمران خان۔ ایک سال سے جس تندہی سے عمران نے اپنی تقاریر، انٹرویو چاہیں بیانات، جلسے، سوشل میڈیا، ویٹر، یوٹیوب غرضیکہ ابلاغ عامہ کا ہر استعمال میں، حتی المقدور، اپنے ماننے کو افواہ پاکستان اُکسایا اور بھڑکایا۔ عسکری قیادت اختیار کرنا 9مئی کا سانحہ عمران خان کی ایک مہم جوئی کا منطقی نتیجہ تو ہی ہے۔

تاریخ انسانی میں بے شُمار لیڈرز، اپنی سحر انگیز تقاریر یا غیر معمولی چرب زبانی سے قوموں کے جذبات بَر انگیختہ ترقی۔ طارق بناد، مصطفی کمال اتا تُرک، مارٹن لوتھر کنگ وغیرہ وغیرہ۔ بد قسمتی سے بھی جن کی چرب زُبانی تباہی و بربادی دے؟ حسن الصباح، میلینی، ہٹلر، شیخ مجیب الرحمان، الطاف حسین، عمران خان وغیرہ۔

عمران خان دو آتش، چرب زُبانی غیر معمولی جارحانہ طرزِ سیاست اور پھر جدید میڈیا تو مقبولیت نے ساتویں آسمان کو چھو گھونپ دیا۔ وطنی سیاست بلا شرکت غیرے عمران کے استبداد میں آؤ۔ کئی ملک اور بھی موجود، دُہرانے کی ضرورت ہے۔ آخرکار سانحہ 9 مئی، ریاست پر قیامت۔ جنرل عاصم منیر کو کریڈیٹ کہ اعصاب قابو میں کھے، اندھا دھند ردِ عمل نہیں آیا۔ یہ رویہ میں کچھ سود اور زیاں بھی، تحریک انصاف کے رینکس غلط فہمی کا شکار ہو گئے کہ ضرب کاری رہی، عمران خان چھا چُکے۔

طاقت جلد سرنگوں ہونے کو۔ 9مئی کے بعدکی مزید حماقتیں اسی زمرے میں تبدیلی آرمی سوال دراز ااگلے دو ہفتے قرب جوار تا،جہاں جہاں ٹراپ موجود، فوجی آپریشن، ان کے حواصلے دور اپنے ساتھ لائحہ عمل کو ترتیب کل کی میٹنگ میں اپنے جامع لائحہ عمل کا اعلان کریں۔

واشگاف الفاظ میں سانحہ 9 مئی کے پلانرز، کاروں کو کیفر کردار ادا کرنے کا عزم صمیم بتلایا۔ لفظ کا چناؤ، پیغام غصہ لبالب سے۔ واضح طور پر صرف پیغام اور صرف عمران خان کیلئے۔ یقین تھا کہ سانحہ کا ذمہ دار عمران خان بچ نہیں سکتا کہ سیاست گھمسان ​​کارن پڑی چُکا۔

طاقت کا بخوبی اندازہ ہے اور استعمال بھی۔ پلک جھپکتے فتح طاقت کی ہی رہنی۔ اگرچہ سیاست کی ہار یقینی ہے، یہ مشکل ہے کہ عمران خان کی 8 مئی کی سیاست آج 8 جون کو کہاں تک ہے؟ خیال ہے کہ تھوڑے بہت “اگر مگر، ساتھ ہی” وطنِ عزیز کی سیاست اکلوتا محور آج عمران خان ہی ہے۔ اِس کا مطلب یہ نہیں کہ باقی کی سیاست ختم ہو گئی، ہرگز نہیں 15 مارچ سے عمران خان کی سیاسی جماعتوں کی قیادت رہی ہے۔ اس سے پہلے وطنِ عزیز میں شیخ مجیب الرحمان، ذوالفقار علی بھٹو، الطاف حسین، نواز شریف جب تک اسٹیبلشمنٹ کے مد مقابل تھے، اُس وقت کی باقی سیاسی جماعتیں سیاسی دوڑ سے باہر نکلتی تھیں۔ اسٹیبلشمنٹ حامیمنٹ نے بھی جب سیاست استوار کی، اسٹیبلش کے زیر سایہ ہی پنپی۔ طاقت بمقابلہ سیاست، مقابلہ، عمران اگر اپنی سیاست نہ چھوڑیں تو حالات اور واقعات ایک جیسے ہوں اور اپنی سیاست بچائیں تو وطنی سیاسی منظرنامہ کا منظرنامہ۔ سانحہ9 مئی کی نیرنگیاں، (بطور ڈیفالٹ)، آج ملکی نظم و نسق یا اہم امور حکومت عملاً اسٹیبلشمنٹ کو منتقل ہو چُکے۔ مارا لائی دور سے ملتے جلتے حالات کا ساتھ۔

ماضی میں سیاست جب جنرل ایوب کے زیر سایہ ہوا، کنونشن لیگ وجود میں آئی، حامی سیاسی پارٹی کو ایوب خان کی زیر قیادت کنونشن لیگ کی سیاست میں ضم ہونا۔ ضیا الحق دور من و عن تاریخ کو دہرایا۔ فنکشنل لیگی، باقی جماعتیں پارٹی کے سرپرست رہنما، ضیا الحق کی سر پرستی میں رہے، آخر میں ضیا الحق بنتا خرچ ہو گیا۔ 1993 میں نواز شریف نے اپنی سیاست کو اسٹیبلشمنٹ سے متاثر کیا، بچا لیا مشرف دور میں ق لیگ بنی، تمام حامی جماعتیں اور گروپ بنیں۔ آج وطنی سیاست سے باہر

میری محدود سوچ کے مطابق موجودہ اتحادی حکومت یا جہانگیر ترین کی استحکامِ پاکستان پارٹی سب “تیری سرکار” میں جب تو بنیادی طور پر اسبلشمنٹ کے ممد اور معاون بنیں

شروع کریں میں طاقت کی ہی۔ آخری سیاست جب انگڑائی لے گی تو اسبلشمنٹ کے ساتھ آپ کا مقدر جانا جاتا ہے۔ عرض یہ ہے کہ تحریک انصاف کی سپیس یہ پارٹیاں نہیں لے پائیں عمران خان کی آشیر باد ہی اُنکی سیاسی وراثت کا تعین کرے

شک نہیں کہ طاقت نے غالب آنا ہے کہ طاقت ہی ہمیشہ غالب آتی ہے۔ اسٹیبلشمنٹ کی سوچ کہ عمران خان دو ماہ بعد پردہ سی پر نہیں، قرین حقیقت ہے۔ خان کی سوچ کے تین ماہ اسٹیبلشمنٹ کا رعب دبدبہ، ماند پڑ جائے گا اور اقتصادی زبوں حالی کی صورت حال میں اُنکی سیاست دوبارہ اُٹھے گی، بات ہے کہ ماضی میں بھی پہلے چند پارٹی کے اندر سیاست مارا پارٹی کو عمران کو چھوڑ دیا گیا ہے۔ دوست یاد دل چُکی۔ ہر موقع پر طاقت بمقابلہ سیاست، پاکستان پر کیا بیتی؟ غیر بیان موضوع۔

کاش کوئی عمران خان کو سمجھا پاتا اُسکی”مقبول سیاست”مقبول دھوکہ اور فریب۔ مقبولیت کا سراب موصوف کو پھانسی کے قرب و جوار میں لے آیا۔ عمران خان کو فراخدلی سے اسبلشمنٹ کے آگے سرنگوں ہونا چاہیے، اعتراف کے بعد فراخدلی سے معافی مانگنا ہو اتحادی حکومت کے سیاسی نقصانات کا بھی ازالہ کرنا۔ حل تینوں آپس کی صلح میں، ثلاثہ ہی ملک کو بچا سکتا ہے، اس کے علاوہ برتری بھی۔


جیو نیوز، جنگ گروپ یا اس کیرتی پالیسی کی اس تحریر سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

Leave a Reply