کیا آپ میں بھی کووڈ ویکسین کے بعد مضر اثرات ظاہرنہیں ہوئے؟ وجہ جانئے

15

دنیا کی بڑی آبادی کورونا کی ویکسین لگواچکی ہے ان میں کچھ افراد میں ویکسین کے بعد کسی قسم کے کوئی مضر اثرات ظاہر نہیں ہوئے جبکہ لوگوں کی اکثریت میں مضر اثرات ہلکے اور شدید طور پرسامنے آئے۔

 تاہم لوگوں کی بڑی تعداد کا خیال ہے کہ ویکسین کے بعد جسم کا رد عمل مضر اثرات کی صورت میں ظاہر ہوناواضح  کرتا ہے کہ ویکسین کام کر رہی ہے تاہم اس بارے میں کچھ افراد ابہام کا شکار ہیں۔ کیونکہ ان میں ویکسین کے بعد کسی قسم کے کوئی مضراثرات سامنے نہیں آئے۔

مگراب ماہرین کی جانب سے یہ کہا جارہا ہے ضروری نہیں ہے کہ ہر ایک میں مضراثرات ظاہر ہوں۔

امریکا میں کی جانے والی ایک تحقیق کے نتیجے میں یہ بات سامنے آئی ہے۔

 یونیفارمڈ سروسزیونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز میں کی گئی اس تحقیق میں کووڈ ویکسین کے استعمال کے بعد مضر اثرات کا ظاہر ہونا یا اس کی شدت اور لوگوں کے مدافعتی نظام میں اینٹی باڈیز کی سطح میں ایک ماہ بعد کسی بھی قسم کا کوئی تعلق دریافت نہیں ہوا۔

کووڈ ویکسین میں بھی عام ویکسین کی طرح لوگوں میں مختلف مضر اثرات جیسے جسم میں درد، تھکاوٹ اور انجیکشن کے جگہ پر درد کا سامنا رہتا ہے۔

اس تحقیق کا بنیادی مقصد ہی یہ تھا کہ اگر کسی شخص میں ویکسین کے بعد کوئی مضراثرات سامنے نہیں آتے تو یہ ویکسین بیماری کے خلاف کتنی مؤثرثابت ہوتی ہے یا اس سے کتنا تحفظ ملتا ہے۔

اس تحقیق میں والٹرریڈ ملٹری میڈیکل سینٹر کے 206 افراد کو شامل کیا گیا اور ان میں فائزر ویکسین کے نتیجے میں بننے والی اینٹی باڈیز کی سطح کو ویکسینیشن سے پہلے اور بعد جانچا گیا۔

ان تمام افراد کی ویکسینیشن دسمبر2020 سے جنوری 2021 کے دوران کی گئی اور پھرمارچ 2021 تک ان کی مانیٹرنگ کی گئی اور اپریل و مئی میں ان کے لیبارٹری ٹیسٹ کیے گئے۔

اس تحقیق میں بتایا گیا کہ ویکسین کی پہلی ڈوز کے بعد 91 فیصد اور دوسری ڈوز کے بعد 82 فیصد نے انجیکشن کی جگہ پر درد ہونے کی شکایت رپورٹ کی۔

بلکل اسی طرح پہلی ڈوز کے بعد 42 فیصد نے تھکاوٹ یا کمزوری جبکہ 28 فیصد نے جسم میں تکلیف کی شکایت کی۔

جبکہ دوسری ڈوز کے بعد 62 فیصد نے کمزوری یا تھکاوٹ اور 52 فیصد نے جسم میں تکلیف کے بارے میں بتایا۔

محققین کے مطابق ایم آر این اے ویکسینز(اس وقت امریکا میں فائزریا موڈرناویکسینز کا استعمال کیا جارہاتھا) جسمانی خلیات کو اس طرح کی تر بیت دیتی ہے کہ کس پروٹین یا پروٹین کے حصے کو بنانا چاہئے جو جسم کے اندر مدافعتی ردعمل کو متحرک کرتاہے۔

محققین کا اس تحقیق کے نتائج کو سامنے رکھتے ایسے تمام افراد جنہوں نے ویکسین لگانے کے بعد کسی قسم کے مضراثرات کا سامنا نہیں کیا یقین دلایا کہ اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں ہے کہ ویکسین کام نہیں کر رہی یا اس کی افادیت کم ہوگئی ہے۔

تاہم ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ان نتائج کو دیکھتے ہوئے مستقبل میں ایسی ویکسینز تیار کی جاسکیں جو وائرس کے خلاف تو بہتر مدافعتی رد عمل پیدا کریں مگر مضر اثرات کم ہوں۔

تاہم محققین کی جانب سے کہا جارہا ہے کہ اب ویکسین کے مضر اثرات اور طویل عرصے تک اینٹی باڈی رد عمل کے درمیان تعلق جاننے کے لئے تحقیق کی جائے گی۔

اس تحقیق کے نتائج جرنل اوپنفورمانفیکشیز ڈیزیز میں شائع کئے گئے ہیں۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.