چین سے دیوقامت سمندری بچھو کی باقیات دریافت

17

اس بچھو کی لمبائی ایک میٹر سے بھی زیادہ ہوا کرتی تھی۔ (فوٹو: سائنس بلیٹن)

اس بچھو کی لمبائی ایک میٹر سے بھی زیادہ ہوا کرتی تھی۔ (فوٹو: سائنس بلیٹن)

شنگھائی: سائنسدانوں نے جنوب مشرقی چین کے علاقے ’’شیوشان فارمیشن‘‘ سے 43 کروڑ 50 لاکھ سال قدیم سمندری بچھو کے رکازات (فوسلز) دریافت کیے ہیں جو شاید اپنے زمانے کا ایک خونخوار سمندری درندہ بھی تھا۔

بتاتے چلیں کہ چین کا یہ علاقہ آج سے 43 کروڑ سال پہلے سمندری تہہ میں، قطب جنوبی سے کچھ دوری پر واقع تھا جو آہستہ آہستہ حرکت کرتا ہوا اپنی موجودہ حالت تک پہنچ گیا۔

شیوشان فارمیشن سے دریافت ہونے والے اس قدیم و معدوم بچھو کا نام ’’مکسوپٹیرڈ یورپٹیرڈ‘‘ (mixopterid eurypterid) رکھا گیا ہے جو ایک میٹر (39 سینٹی میٹر) سے بھی زیادہ لمبا ہوا کرتا تھا۔

یہاں سے مکسوپٹیرڈ بچھو کے کئی رکازات مل چکے ہیں جن کے تفصیلی معائنے سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ کروڑوں سال قدیم جانور غیرمعمولی طور پر آج کے بچھو جیسا تھا، لیکن جسامت میں اس سے کئی گنا بڑا تھا۔

اس کے دیگر جسمانی خدوخال کی بنیاد پر اندازہ ہوتا ہے کہ یہ سمندر میں رہنے والا ایک بے رحم شکاری تھا جو چھوٹے سمندری جانوروں کو اس طرح جکڑ لیتا تھا کہ جیسے انہیں کسی ٹوکری میں بند کردیا گیا ہو۔

نوٹ: اس خطرناک اور قدیم سمندری بچھو کی تفصیلات آن لائن ریسرچ جرنل ’’سائنس بلیٹن‘‘ کے میں شائع ہوئی ہیں۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.