پرانے کپڑوں کی آڑ میں ہزاروں ڈالر کے پولیسٹر فیبرک کی اسمگلنگ ناکام

4

کنسائمنٹ کو 5796 ڈالر اور 6489 ڈالر کا ظاہر کیا گیا جب کہ ان کی مالیت 78 ہزار اور 68 ہزار ڈالر ہیں، دو مقدمات درج (فوٹو : فائل)

کنسائمنٹ کو 5796 ڈالر اور 6489 ڈالر کا ظاہر کیا گیا جب کہ ان کی مالیت 78 ہزار اور 68 ہزار ڈالر ہیں، دو مقدمات درج (فوٹو : فائل)

 کراچی: پاکستان کسٹمز اپریزمنٹ ایسٹ کلکٹریٹ نے سیکنڈ ہینڈ کلاتھ کی آڑ میں پولیسٹر فیبرک کی اسمگلنگ ناکام بنادی۔

ذرائع نے بتایا کہ چین سے درآمد ہونے والے کنسائمنٹس کے درآمدکنندگان نے کلیئرنگ ایجنٹس کی ملی بھگت سے کنسائمنٹس کی کلئیرنس کے لیے محکمہ کسٹمز میں داخل کرائے جانے والے گڈز ڈیکلریشن میں سیکنڈ ہینڈ مکس کلاتھ، مکس پرنٹ، ٹی شرٹس، مردانہ اور زنانہ کپڑے، جیکٹس، کوٹ اور سوئٹرز وغیرہ ظاہر کیا تھا۔

ذرائع نے بتایا کہ ان دونوں کنسائمنٹس کے درآمد کنندگان کی جانب اپنے اپنے کنسائمنٹس کی مالیت بھی غلط ظاہر کی تھی جس میں میسرز ویسٹرن ریگس نے اپنے کنسائمنٹ کی مالیت 5796 ڈالر جبکہ میسرز وسیلہ انٹرپرائزز نے 6489 ڈالر گڈز ڈیکلریشن میں اپنے کنسائمنٹ کی مالیت ظاہر کی تھی جبکہ حقیقی معنوں میں میسرز وسیلہ انٹرپرائززکے کنسائمنٹ کی مالیت 78 ہزار ڈالر ہے جبکہ میسرز ویسٹرن ریکس کے کنسائمنٹ کی مالیت 68ہزار ڈالر ہے۔

کسٹم حکام کی جانب سے اس جرم میں ملوث میسرز واسیلہ انٹرپرائزز کے ڈائریکٹر سید جاوید اور میسرز کویسٹرن ریگس کے مالک عبدالرحمان سمیت کسٹمز کلئیرنگ ایجنٹس میسرز علی کے مالک قیصر عباس اور میسرز سی پی اے سی انٹرپرائزز کے مالک شمس اللہ کے خلاف دو الگ الگ مقدمات درج کرنے قانونی کاروائی کا آغاز کردیا ہے۔

محکمہ کسٹمز کی جانب سے درج کی جانے والی ایف آئی آر کے مطابق درآمد کنندگان کی جانب سے داخل کرائی جانے والی جی ڈیز ریڈچینل میں آنے پر سسٹم نے کنسائمنٹس کو ایگزامنشین کے لیے منتخب کیا گیا جس کے بعد متعلقہ افسران کی جانب سے کنسائمنٹس کی جانچ پڑتال کے دوران اس امر کا انکشاف ہوا کہ درآمد کیے جانے والے کنسائمنٹس میں سیکنڈ ہینڈ کلاتھ کے بجائے کپڑے کی بھاری مقدار اسمگل کرنے کی کوشش کی جارہی تھی جس پر محکمہ کسٹمز نے ملزمان کی جانب سے قومی خزانے کو بھاری نقصان پہنچانے کی کوشش کے جرم میں ملزمان کے خلاف مقدمہ درج کیا۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.