موسمیاتی تبدیلی سے پاکستان میں خوراک کی قلت کا خطرہ

13

عالمی بینک کے مطابق جنوبی ایشیا کا ماحولیاتی نظام آلودگی کا شکار ہورہا ہے اور یہاں رہنے والے 80 کروڑ افراد ماحولیاتی تبدیلی کے اثرات سے متاثر ہوں گے۔

 2030ء تک اس خطے میں موحولیاتی تبدیلی سے ہونے والے معاشی نقصانات سالانہ 160 ارب ڈالر تک پہنچ جائیں گے، مزید خطرے کی بات یہ ہے کہ 2050ء تک جنوبی ایشیا کے 4 کروڑ افراد ماحولیاتی پناہ گرین بن جائیں گے اور اس تلاش میں در بدر پھریں گے کہ کوئی ملک انہیں پناہ دے دے۔

فوڈ سیکیورٹی اینڈ ریسرچ کے وزیر فخر امام نے کہا کہ ماحولیاتی تبدیلی پائیدار ترقی کے اہداف کے حصول کی راہ میں سب سے اہم رکاوٹ بن گئی ہے اور لاکھوں افراد کو غذائی عدم تحفظ اور غربت کا سامنا ہے۔

پروموٹنگ کلائمیٹ اسمارٹ ایگریکلچر‘ کے عنوان سے ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے فوڈ سیکیورٹی اینڈ ریسرچ کے وزیر فخر امام نے کہا کہ زراعت ترقی پذیر دنیا میں غذائی تحفظ کی بنیاد ہے۔

انہوں نے کہا کہ زراعت نہ صرف انسانی استعمال کے لیے ضروری خوراک اور مویشیوں کے لیے چارہ فراہم کرتی ہے بلکہ صنعت کے لیے خام مال اور ملکی کھپت اور بین الاقوامی منڈیوں دونوں کے لیے ویلیو ایڈڈ مصنوعات بھی فراہم کرتی ہے۔

فوڈ سیکیورٹی اینڈ ریسرچ کے وزیر فخر امام نے زراعت کے شعبے کو اس قدر متحرک اور لچکدار پیمانے پر تبدیل کرنے کی ضرورت پر زور دیا کہ یہ موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات کو برداشت کر سکے اور اس پر انحصار کرنے والی کاشتکار برادریوں کی روزی روٹی کا تحفظ کر سکے۔

فخر امام نے کہا کہ نیشنل فوڈ سیکیورٹی اینڈ ریسرچ کے وزیر نے پاکستان ایگریکلچرل ریسرچ کونسل کے ذریعے کلائمیٹ اسمارٹ ایگریکلچر پر تحقیقی اور ترقیاتی سرگرمیاں کیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ حکومت کی بہترین زرعی پالیسیوں کی وجہ سے گندم، چاول، مکئی، گنا، آلو، پیاز اور مونگ پھلی کی پیداوار میں کووڈ-19 کی وبا پھیلنے کے باوجود ریکارڈ سطح پر اضافہ ہوا۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.