مندر میں غلطی سے داخل ہونے پر مسلم لڑکے پر بہیمانہ تشدد

7

اس سے پہلے بھی مندر سے پانی پینے پر مسلمان لڑکے کو مارا پیٹا گیا تھا، فوٹو: فائل

اس سے پہلے بھی مندر سے پانی پینے پر مسلمان لڑکے کو مارا پیٹا گیا تھا، فوٹو: فائل

غازی آباد: بھارت میں پنڈت اور اس کے حواریوں نے 10 سالہ مسلم لڑکے کو داسنا دیوی مندر میں غلطی سے داخل ہونے پر بہیمانہ تشدد کا نشانہ بناکر پولیس کے حوالے کردیا۔

بھارتی میڈیا کے مطابق دہلی کے مندر کے مسلمانوں کے خلاف ہمہ وقت زہر اگلنے والے پجاری نرسنگھانند نے غلطی سے مندر میں داخل ہونے پر مسلمان لڑکے بہیمانہ تشدد کا نشانہ بنایا اور پھر پولیس کے حوالے کردیا۔

پنڈت کے تشدد سے 10 سالہ لڑکا شدید زخمی ہوگیا جسے سفاک انتہا پسند ہندوؤں نے طبی امداد بھی فراہم نہیں کرنے دی۔ سوشل میڈیا پر تصاویر وائرل ہونے کی وجہ سے پولیس حرکت میں آئی اور پنڈت کے خلاف مقدمہ درج کرلیا۔

پولیس نے عوامی دباؤ پر پنڈت کے خلاف مقدمہ تو درج کرلیا لیکن تاحال اسے گرفتار نہیں کیا گیا ہے۔ پنڈت نرسنگھانند ہی وہی بدخت پجاری ہے جس نے دہلی میں ہونے والے ایک سیمینار میں پیغمبر اسلام کی گستاخی کی تھی جس پر مقدمہ بھی درج ہوا تھا۔

مسلم وکلا کا کہنا ہے کہ اگر نفرت آمیز اسلام مخالف بیانات پر پہلے سے دائر مقدمات میں مذکورہ پنڈت کو گرفتار کرلیا جاتا تو آج یہ واقعہ پیش نہ آتا۔

واضح رہے کہ ایک ماہ قبل قبل 14 سالہ مسلمان لڑکے کو مندر سے پانی پینے پر تشدد کا نشانہ بنایا گیا تھا۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.