مرد سرجنوں کے ہاتھوں خواتین مریضوں کی موت کے امکانات زیادہ کیوں ؟

15

تازہ ترین تحقیق کے مطابق اگر خواتین کا آپریشن مرد سرجن کریں تو ان کی موت کا امکان 32 فیصد زیادہ ہوتا ہے۔ فوٹو : فائل

تازہ ترین تحقیق کے مطابق اگر خواتین کا آپریشن مرد سرجن کریں تو ان کی موت کا امکان 32 فیصد زیادہ ہوتا ہے۔ فوٹو : فائل

فرض کریں کہ آپ ایک ہسپتال میں موجود ہیں اور سرجن آپ کا آپریشن کرنے والا ہے۔

کیا آپ کے ذہن میں اس سرجن کی جو تصویر ہے وہ کسی مرد کی ہے یا عورت کی؟ اگر آپ خود ایک خاتون ہیں تو بہتر ہو گا کہ یہ سرجن بھی خاتون ہی ہوں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ایک تازہ ترین تحقیق کے مطابق اگر خواتین کا آپریشن مرد سرجن کریں تو ان کی موت کا امکان 32 فیصد زیادہ ہو جاتا ہے۔

دوسری طرف اسی تحقیق کے مطابق سرجن کی جنس کیا ہے۔ اس سے مردوں کو زیادہ فرق نہیں پڑتا تاہم خواتین کو اور بھی مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ جیسا کہ 30 دن کے اندر اندر پیچیدگی اور ہسپتال میں دوبارہ داخلے کے امکانات بھی ایسی صورت میں بڑھ جاتے ہیں جب ان کا آپریشن کرنے والا سرجن مرد ہو۔ یقیناً آپ سوچ رہے ہوں گے کہ ایسا کیوں ہے؟

حیران کن بات یہ ہے کہ اس سوال کا مکمل جواب اس تحقیق کی سربراہی کرنے والوں کے پاس بھی نہیں۔ ڈاکٹر کرسٹوفر والس نے میڈیکل جرنل جاما سرجری میں شائع ہونے والی اس تحقیق کی سربراہی کی۔ ان کا کہنا تھا کہ ابھی وہ اس سوال کا جواب ڈھونڈنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ بی بی سی نے کئی خواتین سرجنز سے ان کے خیالات جاننے کی کوشش کی کہ آخر ایسا کیوں ہے کہ ایک خاتون مریض خاتون سرجن کے ہاتھوں میں زیادہ محفوظ ہے۔

ڈاکٹر کرسٹوفر والس کی تحقیق کے دوران 13 لاکھ مریضوں کے اعداد و شمار کا جائزہ لیا گیا جن کا علاج کینیڈیا کے شہر اونٹاریو میں 2007 سے 2019 کے دوران 2,937 سرجنز نے کیا۔ تحقیق کرنیوالوں کا دعوی ہے کہ پہلی بار مریض اور سرجن کی صنف کے علاج پر اثرات کا جائزہ لیا گیا ہے۔

اس تحقیق میں اس سوال کا جواب تو موجود نہیں کہ خواتین کیلئے مرد سرجن خطرناک کیوں ہوتے ہیں لیکن اسی تحقیق میں کئی اور وضاحتوں کی جانب اشارہ کیا گیا ہے۔ ایک ایسی ہی وضاحت کے مطابق مرد ڈاکٹروں کو خواتین مریضوں کے مرض کی شدت کا احساس نہیں ہوتا جب کہ خواتین ڈاکٹر ایسے مریضوں کے درد کو بہتر طریقے سے سمجھ سکتی ہیں۔

خاتون مریض خاتون سرجن کے ہاتھوں میں زیادہ محفوظ کیوں ہے؟

ڈاکٹر انیکا ولیمز امریکہ کے شہر بوسٹن کے ٹفٹس سکول آف میڈیسن میں بطور یورالوجسٹ کام کرتی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ مردوں کی ایک عادت ہے کہ وہ عورتوں کی شکایات کو سنجیدگی سے نہیں سنتے۔ ’ انھیں لگتا ہے کہ خواتین خواہ مخواہ پریشان ہو جاتی ہیں۔ اسی لیے ان کی تکلیف کو سمجھا نہیں جاتا اور ان کے مرض کی شدت کو اکثر جھٹلا دیا جاتا ہے۔‘

ڈاکٹر جینیفر سواہن نیو یارک کی نارتھ ویل ہیلتھ یونیورسٹی میں ویسکولر سرجن ہیں، ڈاکٹر انیکا ولیمز سے اتفاق کرتی ہیں۔ وہ کہتی ہیں کہ مرد سرجن سے علاج میں خواتین کی زیادہ اموات کی ایک وجہ یہ ضرور ہو سکتی ہے کہ مرد حضرات خواتین مریضوں کی شکایات کو ٹھیک طرح نہیں سنتے۔

رویوں کا فرق

ڈاکٹر نینسی بیکسٹر کینیڈا کی یونیورسٹی آف ٹورنٹو کے سینٹ مائیکل کالج ہسپتال میں بطور کولو ریکٹل سرجن کام کرتی ہیں۔ ان کا ماننا ہے کہ یہ درست ہے کہ مرد خواتین کی تکلیف کو نہیں سمجھتے لیکن اور بھی کئی وجوہات ہیں۔ وہ کہتی ہیں کہ ایسا بھی ممکن ہے کہ سرجن کی صنف ان فیصلوں پر اثرانداز ہوتی ہو جو وہ بطور ایک معالج اٹھاتا ہے۔

ڈاکٹر نینسی نے دل کے مریضوں کے اعداد و شمار اور تحقیق کی مدد سے بتایا کہ ایک خاتون ماہر قلب مرد ڈاکٹر کی نسبت خواتین مریضوں کو بہتر طریقے سے دیکھتی ہے جس کے نتائج بھی بہتر نکلتے ہیں۔

انھوں نے مرد اور خواتین ڈاکٹروں کی جانب رویوں میں فرق کی نشاندہی بھی کی۔ ’ ایک آپریشن کے دوران اگر خاتون ڈاکٹر برا کام کرے تو اسے زیادہ سزا ملتی ہے۔ ان کے پاس بھیجے جانے والے مریض کم ہوجاتے ہیں اور انھیں ایسے نتائج پر معافی کم ہی ملتی ہے جس کی وجہ ان کی صلاحیت ٹھیرائی جاتی ہے لیکن اگر ایسا ہی کوئی مرد ڈاکٹر کرے تو کہا جاتا ہے کہ یہ تو بدقسمتی سے ہوا۔ اس لیے خواتین ڈاکٹروں کو مردوں کے ہم پلہ شمار ہونے کے لیے زیادہ بہتر کام کرنا پڑتا ہے۔

خواتین میں ایسی کون سی صلاحیتیں موجود ہیں جو مردوں میں نہیں؟

ڈاکٹر ولیمز کا ماننا ہے کہ خواتین زیادہ حساس ہوتی ہیں اور ساتھ ہی ساتھ ان میں بات چیت کرنے اور ہمدردی کا جذبہ بھی مضبوط ہوتا ہے۔ ڈاکٹر کم ٹیمپلٹن کنساس یونیورسٹی میڈیکل سینٹر میں بطور آرتھوپیڈک سرجن کام کرتی ہیں جن کا ماننا ہے کہ خواتین ڈاکٹروں اور سرجنز کا اپنی خواتین مریضوں سے تعلق ہی اس تحقیق کے نتائج کی وضاحت کر سکتا ہے۔

’ایک مریض اور سرجن کے درمیان تعلق نہایت ضروری ہوتا ہے جس کی وجہ سے مریض ایسی معلومات فراہم کرنے میں آسانی محسوس کرتے ہیں جس سے بیماری کی تشخیص اور علاج میں مدد ملتی ہے۔ بات چیت کے ذریعے کسی آپریشن اور سرجری سے متعلق خدشات کو پہلے سے ہی دور کیا جا سکتا ہے۔‘

ماضی میں ہونے والی تحقیق کے مطابق یہ ثابت ہوا ہے کہ اگر مریض خاتون ہو اور معالج مرد تو مریض اور معالج کا رشتہ اور ان میں بات چیت متاثر ہوتے ہیں۔ لیکن یہ ضروری نہیں کہ اس کی وجہ ڈاکٹر ہی ہو۔ اونٹاریو کی ایک تحقیق کے مطابق خواتین آپریشن کے بعد پیدا ہونے والی پیچیدگی مردوں کو بتانے میں جھجک محسوس کرتی ہیں۔

ڈاکٹر سواہن اس سے متفق ہیں لیکن ان کے مطابق خواتین مریض خواتین ڈاکٹروں کو زیادہ آسانی سے اپنی تکلیف بتا سکتی ہیں۔

میں بھی ایک سرجن ہوں

سرجری کا شعبہ صنفی امتیاز کا شکار رہا ہے اور اسی وجہ سے خواتین سرجری کے میدان میں زیادہ نہیں۔ 2015 میں خواتین سرجنز نے ٹوئٹر پر میں بھی سرجن لگتی ہوں کے نام سے ٹرینڈ شروع کیا۔ آج تک خواتین سرجنز کی جانب سے یہ سننے کو ملتا ہے کہ کیسے اس شعبے میں کام کرنے والی خواتین کے بارے میں اکثر یہ غلط فہمی پائی جاتی ہے کہ وہ وہاں سرجری کے لیے نہیں بلکہ کسی اور کام کے لیے موجود ہیں۔

ڈاکٹر ولیمز کہتی ہیں کہ خواتین سرجنز کو مسلسل ان کی صنف یاد کروائی جاتی ہے۔’ زیادہ تر مریض اور سٹاف خود ہی فرض کر لیتے ہیں کہ میں سرجن نہیں ہوں۔ سب سے زیادہ یہ خیال کیا جاتا ہے کہ میں شاید میڈیکل اسسٹنٹ ہوں یا پھر سیکریٹری ہوں۔ یہ بھی سمجھ لیا جاتا ہے کہ میں نرس ہوں۔‘ وہ کہتی ہیں کہ ’ ایسا بھی ہوتا ہے کہ میرا تعارف جاننے کے باوجود اور مریض سے تشخیص اور سرجری کے نقصانات اور فوائد کی بات چیت کے بعد مریض سوال کرتا ہے کہ اچھا تو اب میری سرجری کون کرے گا؟‘

ان کا خیال ہے کہ مریضوں میں اب تک یہ دقیانوسی سوچ پائی جاتی ہے کہ مرد سرجن زیادہ ماہر ہوتے ہیں۔ وہ کہتی ہیں کہ ہمیں یہ بات معلوم ہے اور اسی لیے ہم ہر مریض کے سامنے جاتے ہوئے یہ جانتے ہیں کہ ہمیں کم تر سمجھا جائے گا لیکن ’ہم نے بہتر کام کرنا ہے کیوں کہ ہم غلطی نہیں کر سکتے۔‘

صنفی امتیاز

اس تحقیق کے سربراہ ڈاکٹر والس کے مطابق یہ ضروری نہیں کہ ہر خاتون مریض جب مرد سرجن کے پاس جائے گی تو اس کا علاج اچھا نہیں ہو گا۔ لیکن وہ واضح کرتے ہیں کہ اس تحقیق میں ایک اور اہم بات جو سامنے آئی وہ یہ بھی تھی ان 13 لاکھ کیسوں میں جن کا معائنہ کیا گیا تقریباً 57 فیصد مریض خواتین تھیں۔ دوسری طرف صرف معالج کی شرح کو دیکھا جائے تو صرف 11 فیصد معالج خواتین تھیں۔ یعنی خواتین سرجنز کی تعداد انتہائی کم ہے۔ ڈاکٹر سواہن اس کمی کو لے کر کافی پریشان ہیں۔

’اگر تحقیق سے ثابت ہو رہا ہے کہ خواتین ڈاکٹر خواتین مریضوں کا بہتر علاج کر رہی ہیں تو پھر ضروری ہے کہ ہر فیلڈ میں خواتین سرجنز کی تعداد بڑھائی جائے۔’

برطانیہ کے رائل کالج آف سرجنز کی وائس پریزیڈینٹ فیونا منٹ بھی اس شعبے میں صنفی امتیاز کے خاتمے کی ضرورت کو مانتی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ برطانیہ میں زیادہ مرد سرجری کی ٹریننگ کرتے ہیں۔ ’آغاز میں تقریباً 41 فیصد خواتین سرجری کا رخ کرتی ہیں لیکن ٹریننگ کے سینیئر لیول تک 30 فیصد اور کنسلٹنٹ لیول پر 14 فیصد خواتین ہیں۔’

ڈاکٹر ولیمز کے مطابق سرجری کے شعبے میں خواتین کو سیکسزم کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ انھوں نے بتایا کہ ایک رات دیر گئے جب انھیں ایمرجنسی میں ایک مرد مریض کے علاج کے لیے بلایا گیا تو ’ایک مرد نرس مریض کو بہتر محسوس کرانے کی کوشش کر رہا تھا اور اسی دوران اس نے مذاق میں اسے کہا کہ وہ اپنے اوپر قابو رکھے اور خاتون سرجن کو نہ چھیڑے۔ اس نے مجھے انتہائی بدتمیزانہ انداز میں ایک چیز بنا کر رکھ دیا اور ایک مریض کو دعوت دی کہ وہ مجھے بطور سرجن نہیں بلکہ ایک خاتون کے طور پر دیکھے جس کی بے عزتی کی جا سکتی ہے، جس کی حدود کی خلاف ورزی ممکن ہے۔‘

سیکسزم اور صنفی امتیاز یقیناً ایک بڑا چیلنج ہے اور جب تک ان کا خاتمہ نہیں کیا جاتا سرجری میں زیادہ خواتین کا آنا مشکل ہو گا۔

فی الحال ڈاکٹر بیکسٹر سمجھتی ہیں کہ ’جب لوگ کسی بھی سرجن کے بارے میں سوچتے ہیں تو ان کے ذہن میں ایک مرد کا تصور ہوتا ہے۔‘( بشکریہ بی بی سی )

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.