فنگس کا استعمال کینسر کے مرض میں مؤثر ثابت ہوسکتا ہے

5

زیادہ دن تک کوئی چیز رکھی رہے تو اس میں یا تو کیڑے پڑ جاتے ہیں یا پھر فنگس لگ جاتی ہے جسے عام الفاظ میں پھپوندی بھی کہا جاتا ہے۔

یہ کیا آپ جانتے ہیں کہ یہ فنگس کینسر جیسے موذی مرض کے علاض میں بہت فائدے مند ثابت ہوتی ہے۔

یہ فنگس کوئی عام فنگس نہیں ہے بلکہ یہ ہمالیائی خطوں میں پائی جانے والی پھپوندی کی ایک خاص قسم سے جو کہ برسوں سے طبی مقاصد کے لئے استعمال کی جاتی ہے۔

اس حوالے سےسائنسدانوں نے ایک کمپنی کے ساتھ مل کر ایک مرکب پ یش کیا ہے جسے کورڈائی سیپن کا نام دیا گیا لیکن کورڈائی سیپن نامی کیمیکل میں خرابی یہ ہے کہ خون میں جاکر اس کے شیرازہ بکھرنے سے افادیت کم ہوجاتی ہے۔

کورڈائی سیپِن کا اثر بڑھانے کے لیے ماہرین نے ایک نئی ٹیکنالوجی پیش کی ہے جسے ’پروٹائیڈ‘ ٹیکنالوجی کا نام دیا گیا ہے۔

 اس طرح کیمیکل سیدھا کینسر کے خلیات پر حملہ آور ہوتا ہے۔ اس طرح سرطانی خلیات پر گہرا وار پڑتا ہے کیونکہ اس موقع پر کیمیکل کی افادیت بہت بڑھ جاتی ہے۔

کورڈائی سیپِن کی اس تبدیل شدہ قسم کو این یو سی 7738 کا نام دیا گیا ہے۔ جب اس پر تجربات کئے گئے تو معلوم ہوا ہے کہ اب اس دوا کی تاثیر کم سے کم 40 گنا تک بڑھ چکی ہے۔ فیز ون ٹرائل ابھی جاری ہے جن سے امید افزا نتائج ملے ہیں جبکہ بہت جلد فیز ٹو طبی ٹرائل بھی شروع کئے جائیں گے۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.