غذاؤں کا تنوع ختم ہونے لگا

7

نصف صدی قبل ہوش سنبھالا تو مجھے خوب یاد ہے کہ ہر غذا اپنی مخصوص خوشبو رکھتی تھی۔

آج گھر میں چاول پکے ہیں تو ان کی مہک بھوک بڑھا دیتی۔ گندم کی روٹی اپنی منفرد خوشبو سے ماحول مہکا تی۔ پھر ہرغذا کا اپنا اپنا ذائقہ تھا۔ غرض تمام غذائیں اپنی خوشبو اور ذائقے کی وجہ سے ممتاز تھیں۔لیکن آج تقریباً ہر غذا سے خوشبو ختم ہو چکی۔سونگھو تو برائے نام ہی آتی ہے۔اسی طرح ذائقہ بھی پہلے جیسا نہیں رہا، کہیں کھو گیا۔حقیقت میں دور جدید کی غذائیں صرف اس لیے رہ گئی ہیں کہ انسان انھیں کھا کر زندہ رہے۔کسی زمانے میں غذائیں تناول کرتے ہوئے جو روحانی مسّرت ،لطف اور خوشی محسوس ہوتی تھی،وہ اب قصّہ پارنیہ بن چکی۔یہ منفی تبدیلی جنم لینے کی مختلف وجوہ ہیں۔

ایک اہم وجہ یہ کہ اب پوری دنیا میں جینیاتی انجیئرئنگ سے پیدا شدہ بیجوں سے غذائیں اگائی جاتی ہیں۔یہ بیج نہ صرف جلد غذا اُگاتے بلکہ پیداوار بھی زیادہ دیتے ہیں۔اس تبدیلی سے بنی نوع انسان کو غذائیں تو وافر ملنے لگیں مگر وہ خاصی حد تک خوشبو اور ذائقے سے محروم ہو گئیں۔

دوسری وجہ یہ کہ ان جینیاتی بیجوں کو نشوونما پانے کی خاطر مختلف کھادیں اور کیڑے مار ادویہ درکار ہوتی ہیں تاکہ وہ مطلوبہ پیداوار دے سکیں۔اس عمل نے بھی غذاؤں کو مہک دار اور لذیذ نہیں رہنے دیا۔بعض ماہرین کا تو دعوی ہے کہ ایسی غذائیں غذائیت(nutrients)بھی کم رکھتی ہیں۔یعنی ان میں ماضی کی غذاؤں کے مقابلے میں وٹامن،معدنیات اور دیگر غذائی اجزا تھوڑی مقدار میں ہوتے ہیں۔گویا پیداوار میں اضافہ کرنے کے چکر میں انسان نے غذاؤں کی نشوونما کا قدرتی نظام درہم برہم کر ڈالا۔

غذائیں کھاتے ہوئے معدوم کر دینا

قران پاک کی سورہ البقرہ آیت 168میں اللہ تعالی نے انسان کو حلال و پاکیزہ اشیا کھانے کی تلقین فرمائی ہے۔ساتھ ہی یہ ارشاد بھی فرمایا کہ شیطان کے نقش قدم پر مت چلنا۔جدید انسان یہ سبق بھول کر مادہ پرستی اور ہوس کی راہ پہ چل پڑا ہے۔اس کج روی کا نتیجہ بھیانک بھی نکل سکتا ہے۔سچ یہ ہے کہ غذاؤں کی قدرتی نشوونما کا نظام بگاڑ دینے سے ایسا گھمبیر مسئلہ جنم لے چکا جس سے کم ہی لوگ آگاہ ہیں۔حالانکہ یہ مسئلہ ہمیں قسم قسم کی عمدہ اور بہترین غذاؤں سے بہ سرعت محروم کر رہا ہے۔

انسانیت کو درپیش یہ نیا مسئلہ برطانوی محقق و صحافی،ڈان سلادینو نے اپنی کتاب’’ غذائیں کھاتے ہوئے معدوم کر دینا‘‘(Eating to Extinction)میں تفصیل سے بیان کیا ہے۔ڈان صاحب بی بی سی سے وابستہ ہیں ۔غذاؤں کے بارے میں دستاویزی پروگرام تیار کرتے ہیں۔انہی پروگراموں کی تیاری کے دوران ان پہ منکشف ہوا کہ انسان رفتہ رفتہ اپنے زیراستعمال ہزارہا غذائیں صفحہ ہستی سے مٹا رہا ہے۔یہ جدید دور کے انسان کا ایک اور منفی روپ ہے جو تحقیق سے عیاں ہوا۔

واضح رہے،کرہ ارض پہ نت نئی تعمیرات اور کھیت بننے سے جنگلات کا رقبہ ہر سال کم ہو رہا ہے۔سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ ہر برس چرند پرند اور نباتات کی سیکڑوں اقسام ناپید ہو جاتی ہیں۔گویا زمین پر انسانوں کا غلبہ قدرت الہی کی دیگر تخلیقات ختم کر رہا ہے جو نہایت تشویش ناک امر ہے۔ہاتھی سے لے کر معمولی کیڑے مکوڑے تک کسی نہ کسی طرح انسان کی مدد کرتے ہیں۔شکر ہے کہ ترقی یافتہ ممالک میں ان کی اہمیت کا احساس ہو چکا۔اسی باعث وہاں حکومتیں اور عوام ،دونوں جنگلی حیات کے تحفظ کی خاطر ٹھوس اقدامات کر رہے ہیں۔

سمندروں میں بھی بحری جانور اور نباتات کی اقسام مٹ رہی ہیں۔اس کا سبب بھی انسانی سرگرمیاں ہیں جن کی وجہ سے فضا میں کاربن ڈائی آکسائڈ ،میتھین اور دیگر سبزمکانی گیسیں بڑھ رہی ہیں۔ان گیسوں کی بڑی مقدار سمندروں میں جذب ہو کر پانی کو تیزابی بنا چکی۔تیزابیت کے اس ماحول میں بہت سے نازک سمندری جانور اور پودے زندہ نہیں رہ سکتے۔یوں ان کی اقسام ناپید ہو جاتی ہیں۔

اب برطانوی محقق ،ڈان سلادینو نے معرکتہ آلارا کتاب لکھ کر انسانیت پہ یہ تلخ سچائی آشکارا کی ہے کہ ہماری غذاؤں کا تنوع بھی دم توڑ رہا ہے۔کھانوں کی متفرق اقسام معدوم ہو رہی ہیں اور اس منفی عمل کا ذمے دار بھی انسان ہے۔

گندم کی انمول قسم

مثال کے طور پہ آئیے برادر اسلامی ملک،ترکی کے مشرقی علاقوں میں چلتے ہیں۔وہاں پہاڑوں کے دامن میں چند جگہوں پر آپ کو گندم کے کھیت دکھائی دیں گے۔ان کھیتوں میں سنہری بالیاں دور سے پہچانی جاتی ہیں۔انھیں دیکھ کر لگتا ہے کہ زمین پہ سونا اُگ آیا۔گندم کی یہ خوبصورت اور ذائقے دار قسم اب ناپید ہونے کے خطرے سے دوچار ہے۔

ماہرین زراعت کا کہنا ہے کہ لاکھوں سال کے عرصے میں گندم کی یہ قسم مشرقی ترکی میں ارتقا پذیر ہوئی اور اپنی منفرد صورت،خوشبو اور ذائقے کی وجہ سے انسانوں میں ہر دلعزیز قرار پائی۔علاقے میں آباد ترک اسے بڑے چناؤ اور چاہت سے کاشت کرنے لگے۔یہ قسم مقامی انسانوں کی معاشرتی،تہذیبی اور ثقافتی زندگی کا بنیادی جزو بن گئی۔مگر افسوس،اب وہ معدوم ہوسکتی ہے۔

مقامی ترک کسان کہتے ہیں کہ ہر سال گندم کی اس قسم کا رقبہ مذید کم ہو جاتا ہے۔ وجہ یہ کہ اس قسم کی فصل دیر سے پکتی ہے ،جبکہ پیداوار بھی زیادہ نہیں ہوتی۔ البتہ یہ گندم خوشبو اور ذائقے میں لاجواب رہتی ہے۔لیکن اب مقامی کسانوں کی اکثریت گندم کی ایسی اقسام اگانا چاہتی ہے جو زیادہ پیداوار دے سکیں۔مدعا یہ ہے کہ ان کو مالی فائدہ ہو۔وہ غذا کی غذائیت،خوشبو اور ذائقے پر اپنے مالی مفاد کو ترجیع دیتے ہیں۔دور جدید کے کسانوں کی اکثریت اسی قسم کی سوچ رکھتی ہے۔شاید یہی وجہ ہے ،آج کل کے کھانوں میں برکت بھی نہیں رہی۔

گندم ناپید ہونے والی ہے؟

مشرقی ترکی کے مخصوص علاقوں میں بوئی گئی گندم کی قسم ’’کاولجا‘‘(Kavilca )کہلاتی ہے۔اسے ایمر‘‘(Emmer)اور ’’ہلڈ وہیٹ‘‘(hulled wheat)بھی کہا جاتا ہے۔یہ گندم کی گنی چنی اقسام میں شامل ہے جنھیں بارہ تیرہ ہزار سال پہلے انسانوں نے اگایا تاکہ پیٹ بھرنے کا سامان ہو سکے۔اس کے خوشے لمبے اور بالیاں بھی طویل ہوتی ہیں۔کاولجا کی خصوصیت یہ ہے کہ جن علاقوں میں پانی کم ہو،بارشیں زیادہ نہ ہوں،وہاں بھی تھوڑی محنت کے بعد اگ جاتی ہے۔مگر گندم کی یہ ابتدائی قسم زیادہ پیداوار نہ دینے کے سبب اب دنیا کے چند علاقوں میں ہی بوئی جاتی ہے۔بڑے زمیندار گھریلو استعمال کے لیے اسے کاشت کرتے ہیں۔

دلچسپ بات یہ کہ گندم کرہ ارض کے اربوں انسانوں کا کھاجا ہے۔خصوصاً پاکستان اور بھارت کی بیشتر آبادی اسی کھاجے سے پیٹ بھرتی ہے۔مگر برطانوی محقق کا دعوی ہے کہ گندم تو ناپید ہونے والی ہے۔کیا اس کا دعوی مضحکہ خیز ہے؟یا پھر وہ درست کہتا ہے؟

دراصل گندم ہو یا چاول، مکئی، کوئی سبزی یا پھل،ہر غذا مختلف ذیلی اقسام رکھتی ہے۔اور ہر قسم خوشبو،ذائقے اور ہیت کے لحاظ سے دیگر اقسام سے مختلف ہوتی ہے۔بنیادی مسئلہ یہی ہے کہ ہر غذا کی بہت سی اقسام رفتہ رفتہ مٹ رہی ہیں اور انسان انھیں محفوظ کرنے کے لیے خاطر خواہ اقدامات انجام نہیں دے رہا۔ناپیدگی کے خطرے سے دوچار غذا کی یہ ہزارہا اقسام اپنی مخصوص خصوصیات رکھتی ہیں۔

مثال کے طور پہ کاولجا گندم کو لیجیے۔یہ نیم بنجر زمین پر بھی اگ سکتی ہے۔اسی طرح گندم کی بعض اقسام ایسی ہیں جو دیگر قسموں کے برعکس بیماریوں میں مبتلا نہیں ہوتیں۔بعض اقسام کو مضر کیڑے نقصان نہیں پہنچا سکتے۔حتی کہ کچھ اقسام تو آب وہوائی تبدیلیوں کا مقابلہ بھی کر لیتی ہیں۔قدرت الہی نے غذاؤں میں یہ رنگا رنگ تنوع اسی لیے پیدا فرمایا تاکہ کرہ ارض پہ زندگی کی تمام اشکال کو وافر کھانا مل سکے اور کوئی ذی حس رات کو بھوکا نہ سوئے۔لیکن انسان اس قدرتی تنوع کو ختم کرنے کے درپے ہے جو ایک تشویش ناک امر ہے۔ماہرین غذائیت نے اس قتل عام کو ’’غذاؤں کی وسیع پیمانے پر ناپیدگی‘‘(mass extinction)کا نام دیا ہے۔

یکسانیت آ چکی

حقیقت یہ ہے کہ انسانی زندگی کے تقریباً سبھی پہلوؤں اور شعبوں میں تنوع بتدریج ختم ہو رہا ہے اور ان میں یکسانیت آ چکی۔مثال کے طور پہ دنیا کے کسی بھی ملک چلے جائیے،وہاں آپ کو ایک جیسے شاپنگ مال دکھائی دیں گے۔وہاں خریداری کرتے ہوئے یکساں ماحول ملتا ہے۔ان مالز میں قطار در قطار الماریوں میں کراچی سے لے کر لندن اور سڈنی سے لے کر نیویارک تک ملتے جلتے ناموں  والے برانڈ نظر آتے ہیں۔ جو شے امریکا میں ملتی ہے،وہی اب پاکستان میں بھی دستیاب ہے۔

اسی قسم کی یکسانیت غذاؤں کے ہمارے نظام میں بھی در آئی ہے۔ پچھلے ایک سو برس کے دوران سائنس وٹکنالوجی کی جدتوں نے یہ عجوبہ ممکن بنا دیا کہ ہم دنیا کے کسی بھی کونے میں چلے جائیں،ہر جگہ من پسند کھانے کھا سکتے ہیں۔ گویا اس ندرت نے ایسی ’’غذائی یکسانیت‘‘پیدا کر دی جو انسانی تاریخ میں پہلے ہمیں دکھائی نہیں دیتی۔ اگرچہ شاید آپ حیرت سے یہی کہیں گے:’’بھائی صاحب!مگر میں تو اپنے باپ دادا کے دور کی نسبت غذاؤں کی زیادہ ورائٹی کھاتا ہوں۔ اس زمانے میں انھیں قسم قسم کے کھانے میّسر نہ تھے جو آج ہمیں حاصل ہیں۔ ‘‘

ایک لحاظ سے یہ دعوی درست ہے۔ ڈیرھ دوسو سال پہلے لوگوں کو صرف مقامی سطح پہ دستیاب غذا ملتی تھی۔ لہذا ان کے پاس چوائس محدود تھی۔ جو گنی چنی غذائیں موجود ہوتیں،انھیں انہی میں سے انتخاب کرنا پڑتا۔ مگر اب حال یہ ہے کہ آپ لندن میں ہیں یا ارجنٹائن کے دارالحکومت،بیونس آئرس میں،آپ کو ’’کری‘‘ (مسالے دار سالن )، سوشی یا من پسند برگر ضرور مل جائے گا۔ کیلا،آم،سیب اور دیگر بھل بھی بہ آسانی دستیاب ہوں گے۔ پسندیدہ مشروب کی بوتل بھی سامنے دکان پہ ہو گی۔ پانی کا ہر برانڈ بھی دکھائی دے گا۔

غرض کھانے پینے کی اشیا کی فراوانی دیکھ کر ہمیں بہ نظر غائر یہی محسوس ہوتا ہے کہ غذاؤں میں بہت تنوع اور رنگارنگی ہے۔ لیکن انسان جب تھوڑا سا بھی غوروفکر کرے تو اسے پتا چلتا ہے کہ غذاؤں کا یہ تنوع پوری دنیا میں ایک ہی انداز میں پھیل چکا۔ حقیقت میں یہ غذائی تنوع نہیں بلکہ انسان مخصوص غذاؤں کو ترجیع دینے لگا ہے۔ اور عام طور پہ وہ انہی کو تناول کر کے اپنا پیٹ بھرتا ہے۔

غذائی نظام پہ اجارہ داری

ذرا درج ذیل حقائق مدنظر رکھیئے۔ اجناس،فصلیں،پھل،سبزیاں،غرض کھانے پینے کی سبھی چیزیں بیجوں سے جنم لیتی ہیں۔ اور دنیا میں بیجوں کی خریدوفروخت کا کاروبار صرف چار بڑی کارپوریشنوں کے قبضے میں ہے۔ دنیا کی آدھی سے زائد پنیر ایسے جراثیم یا خمیر سے بنائی جاتی ہے جنھیں صرف ایک کمپنی تیار کرتی ہے۔ دنیا میں بئیر کثیر مقدار میں پی جاتی ہے۔ یہ بئیر یورپ کی چند کمپنیاں بناتی ہیں۔ امریکا سے لے کر چین تک خنریز کا گوشت استعمال ہوتا ہے۔ یہ صرف ایک نسل پر مبنی ہے۔ اسی طرح دنیا میں یوں تو کیلے کی پندرہ سو سے زیادہ ورائٹیاں ملتی ہیں مگر عالمی سطح پہ صرف ایک ورائٹی، کیونڈش کاشت کی جاتی ہے۔ یعنی بازاروں میں بکنے والے تقریباً سبھی کیلے کیونڈش ہوتے ہیں۔

قبل ازیں بتایا گیا کہ غذاؤں میں اتنی زیادہ یکسانیت تاریخ انسانیت میں پہلے کبھی نظر نہیں آتی۔ پچھلے ڈیرھ دو سو سال کے دوران انسان کی پانچ چھ نسلیں گزری ہیں۔ اس اثنا میں غذا کے شعبے میں جتنی زیادہ تبدیلیاں آئی ہیں، انھوں نے پچھلے دس لاکھ سال کے دورانیے میں بھی جنم نہیں لیا تھا۔ اس دس لاکھ سال میں انسان کی کم از کم چالیس ہزار نسلیں گزری ہیں۔ گویا ہم جس انداز اور رفتار میں کھانے کھا رہے ہیں،وہ پہلے کبھی نہیں دیکھا گیا۔ یہ غذائی تجربہ انوکھا اور جدید دور کی پیداوار ہے۔

اقسام کیوں پیدا ہوئیں؟

کرہ ارض پہ رہتے انسان کو لاکھوں سال بیت چکے۔ اللہ تعالی نے اپنے قدرتی نظام کے ذریعے انسان کو بھی ہر زندہ شے کی طرح ارتقائی مراحل سے گزارا۔ زمانہ قدیم میں انسان شکاری تھا۔ وہ جنگلوں میں گھوم پھر کر غذا تلاش کرتا ۔ پھر رب کائنات نے اس کی عقل وشعور میں اضافہ فرمایا تو وہ کسان بن گیا۔ مختلف اقسام کی اجناس و سبزیاں اگانے، باغات میں پھل اگانے لگا۔ گوشت پانے کی خاطر مویشی پال لیے۔ اہم بات یہ کہ اس دوران انسان کی توجہ چند مخصوص غذاؤں پہ استوار نہیں تھی۔ بلکہ وہ اپنی زمینوں پہ رنگ برنگ اور متنوع غذائیں اگاتا تھا۔

غذاؤں میں تنوع نے مختلف وجوہ کی بنا پہ جنم لیا۔ مثال کے طور پر جب انسانوں کا ایک گروہ کسی علاقے میں آباد ہو جاتا تو پھر وہاں مختلف عوامل کی بنا پہ چند مخصوص غذائیں نشوونما پاتیں اور پروان چڑھ جاتیں۔ ان میں سے بھی کسی ایک غذا کو دوسروں پہ سبقت حاصل ہوتی۔ اہم عوامل یہ تھے:وہ علاقہ کتنی بلندی پر واقع ہے، میدانی ہے ،پہاڑی یا نیم صحرائی؟علاقے میں کیا پانی وافر دستیاب ہے یا کم؟وہاں ہر ماہ کتنی بارش ہوتی ہے؟کاشت کاری بارانی ہے یا نہری؟علاقے کی آب وہوا کیسی ہے؟موسموں کی صورت حال کیا ہے؟مٹی کی نوعیت کیسی ہے؟کیا وہ زرخیز ہے یا سیم وتھور کی طرف مائل؟

رفتہ رفتہ علاقے میں بسے انسانوں کو تحقیق وتجربے سے درج بالا تمام معلومات حاصل ہو جاتیں تو پھر وہ وہاں کی آپ وہوا سے مناسبت رکھنے والی غذائیں کاشت کرنے یا اگانے لگتے۔ غذاؤں کی حاصل شدہ معلومات بیجوں میں محفوظ ہو جاتی اور ان کے ذریعے اگلی نسلوں تک منتقل ہوتی رہتی۔ اس طریقے سے غذاؤں میں تنوع اور رنگا رنگی جنم لیتی ۔ قسم قسم کی سبزیاں ،پھل اور فصلیں سامنے آتیں جن کی منفرد خوشبو اور ذائقہ ہوتا۔ غذا کی تشکیل کے انہی ارتقائی مراحل سے گزر کر انسانوں نے پنیر بنانا،روٹی پکانا،ڈبل روٹی بیک اور مختلف مشروبات تیار کرنا سیکھے۔ یوں وہ طباخی کے فن میں بھی طاق ہوتاچلا گیا۔

 غذاؤں کی رنگا رنگی خطرے میں

غرض قدیم انسانوں نے اپنے تجربات،شوق وتجسس اور تحقیق کے ذریعے ہمہ اقسام کی غذائیں پیدا کر لیں۔ اللہ تعالی نے انسانوں کو عقل وشعور کا جو انمول تحفہ دیا، اس سے انھوں نے پھرپور فائدہ اٹھایا۔ حتی کہ کئی غذاؤں کی ذیلی اقسام یا ورائٹیوں کو جنم دے ڈالا۔ مثلاً گندم کی کئی قسمیں سامنے آئیں جو علاقے کی آب وہوا،مٹی،پانی اور قدرتی ماحول کے حساب سے ایک دوسرے سے مختلف تھیں۔ انھوں نے اسی لیے جنم لیا کہ قدیم انسان غذاؤں کو بہتر سے بہتر بنانے کے لیے تحقیق و تجربات کرتے رہے اور زراعت کو باقاعدہ ایک فن یعنی آرٹ بنا دیا۔ اب وہ محض زندہ رہنے کا ایک ذریعہ نہیں رہا۔

دوسری طرف دور جدید کے انسان نے کھانا پکانے اور چٹخارے بڑھانے کی خاطر تو نت نئے تجربے کیے مگر وہ غذاؤں کا تنوع برقرار نہیں رکھ سکا۔ اس نے بتدریج چند غذاؤں پر توجہ مرکوز کر دی اور بقیہ آہستہ آہستہ معدوم ہونے لگیں۔ مثال کے طور پہ کالوجہ گندم جس کا رقبہ ہر سال گھٹتا جا رہا ہے۔ یہ مثال عیاں کرتی ہے کہ کرہ ارض پہ غذاؤں کی رنگا رنگی ختم ہونے کے بڑے خطرے سے دوچار ہے۔

کاولجا گندم اپنی ایک یکتا تاریخ رکھتی ہے۔ اس کا تعلق دنیا کے ایک مخصوص علاقے اور وہاں آباد انسانوں سے ہے۔ یہ غذا بہترین انداز میں اپنے ماحول سے مطابقت رکھتی ہے۔ اس کی خوشبو اور ذائقہ بھی لاجواب ہے۔ مگر جدید انسان نے اپنی انتہا پسندانہ سرگرمیوں کے سبب اسے ناپید ہونے کے خطرے میں گرفتار کرا دیا۔ یہ صرف ایک مثال ہے۔ زیادہ خطرناک بات یہ کہ غذاؤں کی دیگر بہت سے اقسام رفتہ رفتہ صفحہ ہستی سے مٹ رہی ہیں۔ ہمیں ان کی المناک داستان معلوم ہونی چاہیے اور یہ وجوہ بھی کہ آخر وہ کیوں دم توڑ رہی ہیں؟انھیں جان کر ہی بنی نوع انسان اپنی بقا کو یقینی بنا پائے گا۔ یاد رکھیے،اگر غذاؤں کا تنوع ختم ہو گیا تو زمین پہ انسان کا وجود بھی مٹنے کے خدشے سے دوچار ہوسکتا ہے۔

بڑھتی مہنگائی سے پریشانی

برطانوی محقق ،ڈان سلادینو2008ء میں اس گھمبیر اور حساس مسئلے سے اتفاقاً آگاہ ہوا۔ اس زمانے میں دنیا مالیاتی اداروں اور بینکوں کے زوال کی وجہ سے زبردست معاشی بحران سے گزر رہی تھی۔ حکومتیں ادارے بچانے کے لیے زرکثیر خرچ کرنے لگیں۔ اسی دوران گندم،چاول اور مکئی کی قیمتیں بھی بڑھ گئیں اور ریکارڈ سطح پر جا پہنچیں۔ چونکہ یہ غذائیں دنیا بھر میں اربوں انسانوں کا کھاجا تھیں لہذا ان کی قیمتیں بڑھنے سے خصوصاً نچلے اور متوسط طبقوں سے تعلق رکھنے والے کروڑوں انسان دباؤ میں آ گئے۔

غریب اب مطلوبہ مقدار میں غذا نہیں خرید سکتے تھے،اس لیے ان کے گھروں میں فاقے ہونے لگے۔ بڑھتی مہنگائی نے انھیں پریشانی میں مبتلا کر دیا۔ ڈپریشن عام ہو گیا۔ اسی ٹینشن نے بعد ازاں ’’عرب بہار‘‘کو جنم دیا۔ تب ایک تیونسی نوجوان نے مہنگائی، غربت اور بیوروکریسی کے ظلم وستم سے تنگ آ کر خود کو آگ لگا لی۔ اس خودکشی نے مگر مشرق وسطی میں زبردست عوامی احتجاج کی لہر دوڑا دی۔ عوام نے مظاہرے کر کے تیونس اور مصر میں حکومتیں گرا دیں۔ جبکہ دیگر عرب حکومتوں کو عوام کی اشک شوئی کے لیے انقلابی اقدامات اٹھانے پڑے۔

دور جدید میں یہ پہلا موقع تھا،دنیا بھر میں یہ بحث شروع ہو گئی کہ آخر ہمارا غذائی نظام کس طرف جا رہا ہے؟اس فکری بحث مباحثے نے سائنس دانوں، دانشوروں اور ماہرین کو دو بڑے گروہوں میں تقسیم کر دیا۔

ایک گروہ کا کہنا تھا کہ دنیا میں انسانی آبادی تیزی سے بڑھ رہی ہے۔ فی الوقت کرہ ارض پہ ساڑھے سات ارب نفوس بستے ہیں۔ 2050 ء تک انسانوں کی آبادی دس ارب جا پہنچے گی۔ (2021 ء میں دنیا کی آبادی سات ارب نوے کروڑ ہو چکی) لہذا اتنی بڑی تعداد کا پیٹ بھرنے کے لیے مخصوص غذاؤں کی پیداوار ’’70 فیصد‘‘ تک بڑھانی چاہیے ۔ تب کرہ ارض سے بھوک ختم ہو گی۔

دوسرے گروہ کے ماہرین نے یہ نکتہ اجاگر کیا کہ مخصوص غذاؤں کی پیداوار میں اضافہ ہوا تو بقیہ غذائیں پس پشت رہنے کی وجہ سے آخر کار معدوم ہو جائیں گی۔ یہ ایک بڑا المیّہ ہو گا۔ گروہ کے سائنس دانوں نے یہ بات بھی نمایاں کی کہ غذاؤں کا تنوع ختم ہوا تو انسان کا مسقتبل خطرے میں پڑ سکتا ہے۔ تیرہ سال قبل تو اس گروہ کی نہیں سنی گئی،اب پہلے گروہ کے ماہرین کو احساس ہو رہا ہے کہ بنی نوع انسان کے تحفظ کی خاطر غذاؤں کا متنوع اور رنگا رنگ رہنا ضروری ہے۔ گویا وقت نے ان کی آنکھوں پہ پڑا نادانی وغفلت کا پردہ ہٹا دیا۔ یہ ایک خوش آئند تبدیلی ہے کیونکہ اب خطرے کا سدباب کرنے والے اقدامات انجام پا سکیں گے۔

 غذائی نظام بہت سادہ ہو چکا

ستمبر 2017ء میں اقوام متحدہ نے نیویارک میں تحفظِ غذا کی عالمی کانفرنس منعقد کرائی۔ اس میں مشہور مغربی فوڈ کمپنی،دنون کے سربراہ ،ایمانویل فیبر نے تقریر کرتے ہوئے کہا:’’ہم نے سائنس کی مددسے چند فصلوں کو پروان چڑھایا تاکہ انسانوں کا پیٹ بھر سکیں۔ مگر اس طرح غذاؤں کا تنوع ختم ہو گیا۔ اس وقت فوڈ انڈسٹری کی مالیت ’’500ڈالر‘‘پہنچ چکی۔ اب تمام بڑی فوڈ کمپنیاں چاہتی ہیں کہ غذائیں متنوع ہو جائیں۔ ابھی غذائی نظام بہت سادہ ہو چکا۔ مثلاً دنیا میں ’’99 فیصد‘‘ گائیں صرف ایک نسل،ہولسٹین سے تعلق رکھتی ہیں۔ ‘‘

دوسری جنگ عظیم کے بعد ماہرین جینیات نے ’’سبز انقلاب‘‘برپا کر دیا۔ انھوں نے گندم،چاول ،مکئی اور دیگر اجناس کے ایسے بیج متعارف کرائے جو زیادہ سے زیادہ پیداوار دے سکیں۔ اب یہ عالم ہے کہ عالمی زرعی نظام میں انہی مٹھی بھر بیجوں کا راج ہے۔ گندم،چاول اور مکئی کے خصوصاً سیکڑوں اقسام کے بیج ختم ہو چکے۔ چند بیجوں پر انحصار کرنے کا خطرہ یہ ہے کہ خدانخواستہ وہ کسی تباہ کن زرعی مرض،خطرناک آفت یا کیڑوں کے حملوں کا نشانہ بن گئے تو خوراک کا عالمی نظام بیٹھ جائے گا۔ تب کروڑوں بھوکے انسانوں کا پیٹ کون بھرے گا؟

سبز انقلاب سے یقیناً چین، بھارت، پاکستان اور بنگلہ دیش جیسے زیادہ آبادی والے ممالک میں زرعی پیداوار بڑھ گئی مگر ہم اجناس کے کئی بیج کھو بیٹھے جو غذاؤںکو تنوع عطا کرتے تھے۔ اب دنیا بھر میں ہر جگہ ایک ہی قسم کی گندم،چاول اور مکئی کی فصلیں دکھائی دیتی ہیں۔ ان میں خوشبو برائے نام ہوتی ہے اور ذائقہ بھی ایک جیسا ۔ پچاس سال پہلے اجناس کی مختلف ورائٹیاں ملتی تھیں۔ کسی کی خوشبو بے مثال تھی تو کوئی ذائقے میں لاجواب۔ اب یہ قدرتی اور زبردست تنوع دم توڑ چکا۔

صرف ’’9‘‘غذائیں…

ماہرین غذائیات کا کہنا ہے کہ انیسویں صدی تک دنیا میں پھیلے انسان اجناس، پھل اور سبزیوں کی ’’6000‘‘اقسام استعمال کر رہے تھے۔ یعنی یہ سبھی غذائیں پیٹ بھرنے میں کام آتی تھیں۔ لیکن آج اہل زمین بنیادی طور پہ صرف ’’9‘‘غذائیں استعمال کرتے ہیں۔ گویا غذاؤں کی رنگارنگی خطرناک حد تک کم ہو چکی۔ یہی نہیں، نو غذاؤں میں سے صرف تین غذائیں…گندم،چاول اور مکئی تقریباً آٹھ ارب انسانوں کو ’’پچاس فیصد ‘‘حرارے فراہم کرتی ہیں۔ اس فہرست طعام میں آلو، جو، پام آئل، سویابین اور چینی (گنے یا چقندر سے بنی) کا اضافہ کیجیے تو انسان روزانہ اپنے ’’ 75 فیصد ‘‘حرارے ان سے پا لیتا ہے۔ گویا اس کا غذائی نظام بہت محدود ہو چکا جو طبی لحاظ سے بھی لمحہ فکریہ ہے کیونکہ وہ مطلوبہ غذائیت فراہم نہیں کر پاتا۔

درج بالا حقائق سے آشکارا ہے کہ انسان زندہ رہنے کے لیے گنی چنی غذاؤں پہ انحصار کرنے لگا ہے۔ جبکہ پچھلے ایک سو برس کے دوران انسانوں کی غفلت و بے پروائی کے سبب بہت سی قیمتی غذائیں دنیا سے مٹ چکیں۔ مخصوص غذا پہ انحصار جدید عجوبہ ہے۔ مثلاً سویابین کو لیجیے۔ 1970ء تک یہ پھلی صرف چین تک محدود تھی۔ پھر اسے مرغیوں، مویشیوں اور فارمی مچھلی کی خوراک بنا دیا گیا۔ اب یہ اشیا اربوں انسان کھاتے ہیں۔ غرض اس قسم کی غذاؤں میں یکسانیت عالمی عجوبہ بن چکی۔

ماہرین غذائیات اب حکومتوں کے ساتھ ساتھ عوام سے بھی اپیل کر رہے ہیں کہ وہ غذاؤں کا تنوع محفوظ کرنے کی پوری کوشش کریں۔ ایک طریق کار یہ ہے کہ مختلف مقامی غذائیں کھائی جائیں اور ان کے استعمال کو فروغ دیا جائے۔ مقامی غذائیں صرف پیٹ ہی نہیں بھرتیں بلکہ ان کی تاریخی اہمیت بھی ہے…یہ اپنے دامن میں تاریخ،مقامی شناخت، ذائقہ، ثقافت، جغرافیہ، جینیات، سائنس، تخلیقیت اور آرٹ بھی رکھتی ہیں۔ لہذا مقامی غذاؤں مثلاً کانجی، گجک، ستو، جڑی بوٹیوں سے بنے شربتوں،مربوں کی قدر کیجیے اور انھیں فروغ دیجیے۔ یوں غذا کا بیش قیمت تنوع برقرار رکھنا ممکن ہو سکے گا۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.