جسم میں بلڈ کلاٹ کیوں ہوتے ہیں اور اس کی کیا علامات ہیں؟ جانیے

5

بلڈ کلاٹس، جسم میں کسی بھی باعث خون کے لوتھڑے بننا اور جمنا شروع ہوجاتے ہیں جس کا اثر انسان کے پورے جسم اور صحت  دونوں پر ہوتا ہے۔

ماہرین نے بتایا ہے کہ بلڈ کلاٹس کا مسئلہ اس وقت ہوتا ہے جب خون گاڑھا ہوجاتا ہے اور شریانوں میں اس کا بہاؤ سست ہوجاتا ہے، ایسا عام طور پر ہاتھوں اور پیروں میں ہوتا ہے مگر پھیپھڑوں، دل یا دماغ کی شریانوں میں بھی ایسا ہوسکتا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ سنگین کیسز میں یہ مسئلہ جان لیوا ہوتا ہے کیونکہ اس سے فالج، ہارٹ اٹیک، پھیپھڑوں کی رگوں میں خون رک جانا اور دیگر کا خطرہ بڑھتا ہے۔

بلڈ کلاٹس بننے کی علامات:

جسم میں بلڈ کلاٹس بننے کی علامات کے حوالے سے ماہرین نے بتایا ہے کہ عام طور پر  ہاتھ یا ٹانگ میں بلڈ کلاٹ پر سوجن، شدید تکلیف، متاثرہ حصہ زیادہ گرم ہوجانا ہوتا ہے۔

اسکے علاوہ  بولنے میں مشکلات، کمزوی، چہرے، ایک ہاتھ یا ٹانگ یا جسم کے ایک حصے کا سن ہوجانا یا کسی قسم کا احساس نہ ہونا ہوتا ہے۔

سانس لینے میں مشکلات، بہت زیادہ پسینے کے اخراج، سینے میں تکلیف جو بائیں ہاتھ تک پھیل جائے، متلی، سر چکرانا یا کچھ وقت کی غشی کی شکل میں ظاہر ہوتی ہیں۔

علاوہ ازیں معدے میں پیٹ کا شدید ترین درد، ہیضہ، قے، قے یا فضلے میں خون کی موجودگی اس کی علامات ہیں۔

بلڈ کلاٹس بننے کی وجوہات:

بلڈ کلاٹ کا خطرہ موٹاپے کے شکار افراد، تمباکو نوشی کرنے والے، 60 سال سے زیادہ عمر، مانع حمل ادویات کا استعمال، دائمی ورم سے جڑے کسی بیماری سے متاثر ہونا، دل کی دھڑکن کی بے ترتیبی، ہارٹ فیلیئر، کینسر، ہاتھوں اور پیروں میں فریکچر، حاملہ خواتین، بلڈ کلاٹ کی خاندان میں تاریخ، چلنے سے قاصر افراد، بہت زیادہ وقت تک بیٹھے رہنا اور اکثر سفر کرنے والوں میں زیادہ ہوتا ہے۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.