بھولنا بھی سیکھنے کے عمل کا ہی ایک حصہ ہے، نیا نظریہ

22

بھولنا بھی دراصل کچھ نیا سیکھنے کی ہی صورت ہے، آئرلینڈ کے دو ماہرین نے نیا نظریہ پیش کر دیا۔

آئرلینڈ سے تعلق رکھنے والے ڈاکٹر ٹوماس ریان اور کینیڈا کے ڈاکٹر پال فرینکلینڈ نے ایک نیا نظریہ پیش کیا ہے جس کے مطابق ان دونوں ماہرین کا کہنا ہے کہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ہمارا دماغ یہ بھی سیکھتا ہے کہ مختلف حالات کے تحت کون کونسی معلومات اہم ہیں اور کونسی نظرانداز کرنے کے قابل ہیں۔

ان دونوں ماہرین نے اپنی تحقیق میں یہ بتایا ہے کہ بدلتے حالات کے ساتھ ساتھ ’ضروری‘ یا ’اہم‘ معلومات کی نوعیت بھی بدلتی رہتی ہے اور جو باتیں یا معلومات پرانی ہو جاتی ہیں ہمارا دماغ ایسی پرانی معلومات پر توجہ نہیں دیتا۔

یوں انسان پرانی معلومات کو بھولنے لگتا ہے اور اس طرح نئی معلومات کو ذہن نشین کرنے اور سیکھنے کا عمل جاری رکھتا ہے۔

ڈاکٹر ریان اور ڈاکٹر پال کا کہنا ہے کہ ’بھولنے‘ کا مطلب یہ نہیں کہ وہ یاد ہمارے ذہن سے غائب ہوجائے، بلکہ ہم ضرورت پڑنے پر اس یاد سے متعلق اینگرامز میں سرگرمی پیدا نہیں کر پاتے۔

یاد رہے کہ اعصابیات (نیوروسائنس) میں کسی خاص علم یا مہارت سے متعلق یادداشت محفوظ کرنے والے دماغی خلیوں کے مجموعے ’اینگرامز‘ (engrams) کہلاتے ہیں۔ جب ہم ذہن پر زور ڈال کر اس بارے میں کوئی بات یا واقعہ یاد کرتے ہیں تو اس سے متعلق اینگرامز میں سرگرمی پیدا ہوتی ہے اور یوں وہ یادداشت ہمارے ذہن میں ’تازہ‘ ہوجاتی ہے۔

یعنی اسے یوں بھی سمجھا جا سکتا ہے کہ پرانی باتیں بھول کر ہم نئی چیزیں اور مہارتیں سیکھنے کا عمل بہتر بناتے ہیں۔

اس طرح صحت مند انسانی دماغ باقاعدہ طور پر یہ بھی سیکھتا ہے کہ پرانی باتوں کو ’بھلایا‘ کیسے جائے، تاکہ وہ بدلتے ہوئے وقت ماحول اور حالات کے مطابق نئی چیزوں کو یاد رکھ سکے اور ہم آہنگی پیدا کر سکے۔

اس عمل کے دوران دماغ کے خلیات تو ویسے کے ویسے ہی رہتے ہیں مگر اِن کی سرگرمی میں تبدیلی آجاتی ہے جسے کو ’بھول جانا‘ قرار دیتے ہیں۔

اس طرح پرانی باتوں کو ہم بھول جانا کہتے ہیں مگر وہ ہمارے دماغ کے کسی کونے میں موجود ہوتی ہیں البتہ وہ یاد تازہ نہیں رہتی اور غیر متحرک ہو جاتی ہیں۔

واضح رہے کہ اس نئے نظریے کو پیش کرنے والے آئرلینڈ کے ڈاکٹر ٹوماس ریان اور کینیڈا کے ڈاکٹر پال فرینکلینڈ کا یہ نیا نظریہ ’نیچر ریویوز نیورو سائنس‘ کے تازہ شمارے میں آن لائن شائع ہوا ہے جس میں انہوں نے انسانی یادداشت اور سیکھنے کے عمل کا مختلف پہلوؤں سے جائزہ لے کر اس کی وضاحت کی ہے۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.