افغانستان کی دھمکیوں پر پی آئی اے کا کابل فلائٹ آپریشن معطل

6

افغان سول ایوی ایشن اتھارٹی کا پی آئی اے سے اسلام آباد اور کابل پرواز کا کرایہ کم کرنے کا مطالبہ

افغان سول ایوی ایشن اتھارٹی کا پی آئی اے سے اسلام آباد اور کابل پرواز کا کرایہ کم کرنے کا مطالبہ

 کراچی: افغانستان کی دھمکیوں پر پی آئی اے نے کابل کے لیے فلائٹ آپریشن معطل کردیا۔

ترجمان پی آئی اے کے مطابق کابل آپریشن اگلے احکامات تک معطل رہے گا، پی آئی اے نے طالبان کے اقتدار میں آنے کے بعد بھی خصوصی آپریشن کرکے افغانستان کی بدلتی صورتحال کے پیش نظر 3 ہزار کے قریب افراد کا انخلا کیا، پی آئی اے نے اقوام متحدہ، عالمی بینک، آئی ایم ایف سمیت دیگر عالمی اداروں اور عالمی میڈیا کے اداروں کے صحافیوں کا انخلا کیا۔

ترجمان نے بیان میں کہا کہ پی آئی اے مشکل حالات کے باوجود واحد بین الاقوامی ائرلائن تھی جس کے کے کپتان اور عملے نے جان خطرے میں ڈال کر کابل کے لیے فضائی آپریشن جاری رکھا اور افغانستان سے لوگوں کا انخلا کیا۔

دوسری جانب افغان سول ایوی ایشن اتھارٹی نے پی آئی اے اور افغان ایئر لائن کام ایئر کو خبردار کیا ہے کہ کابل سے اسلام آباد کے لیے پروازوں کے کرائے کم کیے جائیں ورنہ ان کی اس روٹ پر پروازیں روک دی جائیں گی۔

افغان سول ایوی ایشن اتھارٹی نے اپنے بیان میں کہا کہ افغان شہری اگر ان دونوں فضائی کمپنیوں کی جانب سے کوئی خلاف ورزی دیکھیں تو اتھارٹی کے پاس باضابطہ شکایت درج کرائیں۔ افغان میڈیا کے مطابق طالبان حکومت میں فضائی سفر کا کرایہ 2 ہزار ڈالر تک پہنچ گیا ہے جبکہ اشرف غنی حکومت میں ٹکٹ کی قیمت 200 سے 300 ڈالر تھی۔

گزشتہ روز پی آئی اے نے کہا تھا کہ طالبان حکومت اور افغان سول ایوی ایشن کے غیر پیشہ ورانہ رویے کے خلاف افغانستان کے لئے فلائٹ آپریشن بند کرنے پر غور شروع کردیا ہے۔

پی آئی اے کا کہنا ہے کہ افغان طالبان حکام کی جانب سے پی آئی اے فلائٹ آپریشن میں مداخلت اور افغان سول ایوی ایشن کے عدم تعاون کے سبب معاملہ اعلیٰ سطح پر اٹھانے کا فیصلہ کیا ہے ۔ پی آئی اے انتظامیہ کا کہنا ہے کہ افغان ایئرپورٹس پر پی آئی اے ملازمین کے ساتھ افغان حکام کا رویہ غیر مناسب ہے۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.